’جب بھی سرحد پر کشیدگی اور فائرنگ ہوتی ہے تو خوف کے سائے دوبارہ منڈلانا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم گھروں کے تہہ خانوں میں چھپ جاتے ہیں۔ زیادہ فکر بچوں کی ہوتی ہے۔‘
یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے سرحدی علاقے ذخہ خیل سے تعلق رکھنے والے رفیق ذخہ خیل کا، جن کا گھر پاکستان افغانستان بارڈر سے تقریباً 10 منٹ کی پیدل مسافت پر ہے اور کشیدگی کے دوران وہ مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دو دنوں سے پاکستان افغانستان سرحد پر دونوں جانب سے وقفے وقفے فائرنگ ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گھروں میں محصور ہیں۔
رفیق کی طرح ہزاروں پاکستانی اور افغان قبائلی باشندے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی افغان صوبہ ننگرہار، پکتیا اور خوست میں، پاکستانی دعوؤں کے مطابق، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں پر بمباری کی وجہ سے شروع ہوئی۔
سرحد پر جھڑپوں کے حوالے سے ابھی تک پاکستان یا افغانستان کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان افغانستان سرحد پر تحصیل لنڈی کوتل کی حدود میں وغاؤ، ماروسر اور شاہ کوٹ میں گذشتہ دو دنوں سے کشیدگی برقرار ہے اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق چھوٹے بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
’زیادہ پریشانی بچوں کے لیے‘
رفیق نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کی صورت میں سرحدی علاقوں کے باسیوں کے لیے فکرمندی کی سب سے بڑی وجہ بچے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران لوگ گھروں کے اندر بنے تہہ خانوں میں پناہ لیتے ہیں۔
بقول رفیق: ’ایسی صورت حال میں ہم اپنے بچوں کے ہمراہ زیادہ وقت تہہ خانوں میں گزارتے ہیں۔‘
مویشی قیمتی سرمایہ
رفیق نے مزید بتایا کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے مویشی ایک بڑا سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی صورت حال پاکستان افغانستان سرحد کے دونوں طرف رہنے والوں کی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے کی صورت میں یہاں کے باسیوں کے لیے مویشیوں کی حفاظت بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔
’یہ جانور ہم لوگوں کے لیے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عام حالات میں لوگ مویشی چرانے کے لیے پہاڑوں پر لے جاتے ہیں اور فائرنگ کے دوران یہی خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے قیمتی جانوروں کو نقصان نہ پہنچ جائے۔
رفیق نے کہا کہ رمضان کے دوران علاقے کے بازار میں بھی رش نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور ضروری خریداری کے بعد لوگ جلدی واپس اپنے گھروں کو آ جاتے ہیں۔
’اسی طرح سرحدوں کے قریب علاقوں میں جب کشیدگی شروع ہوتی ہے تو گھروں اور باہر کی لائٹس بھی بند رکھی جاتی ہیں۔‘
تعلیم بھی متاثر
پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے باعث مقامی آبادیوں میں تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔
رفیق نے بتایا: ’ایسے حالات میں بچوں کو سکول بھیجنا بھی مشکل اور خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ موبائل سگنلز بھی بند کر دیے جاتے ہیں اور بعض اوقات اہل خانہ میں سے کسی کے دوسرے علاقے میں ہونے پر رابطہ بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
سرحد پر ڈیوٹی پر مامور ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ دو دنوں سے جھڑپیں جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے قریبی علاقوں کی مشکلات کے حوالے سے بتایا کہ جب بھی کشیدگی شروع ہوتی ہے تو سرحد کے دونوں جانب رہنے والے رشتہ داروں کے لیے تشویش بڑھ جاتی ہے۔
اہلکار نے بتایا: ’دونوں جانب رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ بھی منقطع ہو جاتا ہے تو تشویش مزید بڑھ جاتی اور جب تک کشیدگی برقرار رہتی ہے دونوں جانب لوگوں کی مشکلات بھی بدستور جاری رہتی ہیں۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گذشتہ تقریباً چار مہینوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان زمینی راستے اور سرحدیں بند ہیں۔
تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ماضی میں ترکی اور قطر میں مختلف نشستیں بھی ہوئی تھیں لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔
پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان کو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے سرحد پار دراندازی اور پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں کو روکے لیکن کابل اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتا ہے۔