روس کا افغانستان سے فوجی معاہدہ، کیا طالبان اب یوکرین میں لڑیں گے؟

ماہرین کے مطابق روس یا طالبان نے فوجی تعاون کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن اس بات کا امکان نہیں کہ یہ شمالی کوریا کے ماڈل جیسا ہو۔

دو مارچ، 2026 کو خوست میں ایک طالبان اہلکار اینٹی ایئر کرافٹ گن آپریٹ کر رہا ہے (اے ایف پی)

روس نے طالبان کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد وہ دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

یہ معاہدہ بدھ کو ماسکو میں منعقدہ ’انٹرنیشنل سکیورٹی فورم‘ میں ہوا، جس کی میزبانی روس نے کی اور طالبان کے وزیر دفاع و سینیئر رہنما محمد یعقوب نے شرکت کی۔

یہ طالبان حکام کی پہلی اعلیٰ سطحی شرکت ہے، جو روس کی جانب سے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد ہوئی۔

روس اور افغان فریق نے فوجی تکنیکی معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان اپنے تجربہ کار جنگجو روس کی یوکرین میں جنگی کوششوں کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

اس سے قبل شمالی کوریا نے جون 2024 میں ماسکو کے ساتھ فوجی معاہدے کے بعد ہزاروں فوجی یورپ کے محاذ پر بھیجے تھے۔

محمد یعقوب نے کہا کہ طالبان اور روس نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دی ہے اور ماسکو کے ساتھ تعاون کو ’اہم معنی‘ کا حامل سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’افغانستان اور روس کے طویل اور تاریخی تعلقات ہیں، اسی سمت میں ہم مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دی ہے۔ روس ہمارے خطے اور دنیا بھر میں ایک اہم ملک ہے۔‘

روس کے سابق وزیر دفاع اور موجودہ سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے طالبان رہنما کا خیرمقدم کیا اور مغربی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی ممالک کو افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے چاہییں اور ملک کی تعمیرِ نو کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘

شوئیگو نے مزید کہا کہ روس نے طالبان کے اقدامات کو نوٹ کیا ہے جو انہوں نے افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کیے۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکہ یا نیٹو کے فوجی ڈھانچے یا سہولتیں کسی بھی بہانے سے افغانستان یا اس کے پڑوسی ممالک میں واپس نہیں آنی چاہییں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی حقیقی نوعیت ابھی واضح نہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ طالبان شمالی کوریا کی طرح روس کو فوجی یا اسلحہ فراہم کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تجزیہ کار الیکسی زاخروف کے مطابق طالبان کی حکومت داخلی عدم استحکام کا شکار ہے اور روس کے ساتھ کسی بڑے فوجی تعاون کا امکان کم ہے۔

انہوں نے کہا طالبان شمالی صوبوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور پاکستان کے ساتھ سرحدی مسائل سے دوچار ہیں، اس لیے روس کی جانب سے پرانے فوجی سازوسامان کی مرمت یا کچھ بنیادی اسلحے کی فراہمی ان کے لیے بروقت مدد ہو سکتی ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ روس کے لیے خطرناک ہو گا۔

روس چاہتا ہے کہ طالبان وسطی ایشیائی خطے کی سرحدوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دیں، جہاں داعش خراسان گروپ کی سرگرمیوں پر ماسکو کو شدید تشویش ہے۔

روسی فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے کہا کہ داعش- خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغیزستان، قازقستان اور روسی مزدوروں میں بھرتی کر رہا ہے اور خفیہ دہشت گرد سیل بنا رہا ہے۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں داعش کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور کوئی دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم نہیں۔

انہوں نے کہا ’کسی ملک کو افغانستان کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ کسی فرد یا گروہ کو ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔

’داعش کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور افغان سکیورٹی فورسز نے اس کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا