رینجرز کیمپ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو افغانستان بلا کر ذمہ داری سونپی گئی: سندھ حکومت

وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ حملے میں ’چار دہشت گرد‘ شریک تھے، جن میں سے تین کا تعلق ’افغانستان جبکہ ایک کا تعلق ضلع باجوڑ سے تھا، مگر وہ گذشتہ تقریباً 20 برس سے افغانستان میں مقیم تھا۔‘

کراچی میں 28 جون 2026 کو رینجرز کیمپ پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکار کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

کراچی میں حکام نے منگل کو بتایا کہ رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئے حملے کے ’ماسٹر مائنڈ قاری بشیر‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سندھ رینجرز کیمپ پر حالیہ حملے اور اس کی تحقیقات سے متعلق منگل کو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سیٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

کراچی میں 27 جون کو پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر جماعت الاحرار کے حملے کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار جان سے گئے جبکہ چار زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے 28 جون کو جاری بیان کے مطابق ’حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی دروازے پر دھماکہ کرنے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم رینجرز اہلکاروں کی مستعد اور پُرعزم کارروائی نے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق  اس کارروائی میں تین عسکریت پسند مارے گئے تھے جبکہ ایک زخمی عسکریت پسند کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس تناظر میں منگل کو کی گئی پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ حملے میں ’چار دہشت گرد‘ شریک تھے، جن میں سے تین کا تعلق ’افغانستان جبکہ ایک کا تعلق ضلع باجوڑ سے تھا، مگر وہ گذشتہ تقریباً 20 برس سے افغانستان میں مقیم تھا۔‘

ان کے مطابق ’تمام دہشت گردوں کو افغانستان میں موجود ہینڈلرز کی جانب سے ہدایات دی جا رہی تھیں اور ان کا مقصد رینجرز کیمپ پر حملہ کر کے لوگوں کو یرغمال بنانا اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔‘

اس موقع پر ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے تحقیقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس دہشت گرد کارروائی کو چار مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں افغانستان میں حملے کی منصوبہ بندی کی گئی، دوسرے میں دہشت گردوں کو پاکستان پہنچایا گیا، تیسرے میں مقامی سہولت کاروں نے انہیں رہائش، نقل و حرکت اور دیگر معاونت فراہم کی، جبکہ آخری مرحلے میں انہیں اسلحہ اور خودکش جیکٹس مہیا کی گئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفان بہادر کے مطابق ’خودکش حملہ آور جانان افغانستان کا شہری تھا، دوسرا دہشت گرد ضلع باجوڑ کا رہائشی تھا، تیسرا حملہ آور عمر فاروق افغانستان کے صوبہ کنڑ سے تعلق رکھتا تھا جبکہ چوتھا دہشت گرد، جو زخمی حالت میں گرفتار ہوا، افغانستان کے صوبہ ننگرہار کا رہائشی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے ’پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔‘

بعد ازاں رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے قاری بشیر کو گرفتار کر لیا، جس نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی اور اپنے کردار سے متعلق اعتراف کیا۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ زخمی حالت میں گرفتار ’دہشت گرد عثمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے افغانستان کے ایک دینی مدرسے سے منتخب کیا گیا تھا اور حملے سے قبل دو مختلف تربیتی کیمپوں میں عسکری تربیت دی گئی۔‘

تحقیقات کے مطابق ’قاری بشیر نے ان دہشت گردوں کے لیے کرائے پر کمرہ حاصل کیا اور دیگر انتظامات کیے۔ مجموعی طور پر اس کارروائی میں 13 افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دہشت گرد عثمان نے حملے سے قبل موٹر سائیکل پر موسمیات کے علاقے میں جا کر ریکی بھی کی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان