پشاور میں ٹرک آرٹ سے وابستہ سیار خان کو بیساکھیوں نے بھی رکنے نہیں دیا اور وہ اپنے فن کو بڑی دیراوں اور، قدیم اشیا تک لے آئے ہیں۔
سیار خان گذشتہ 33 برس سے پاکستانی ٹرک آرٹ سے وابستہ ہیں۔ تاہم اب ان کا کینوس صرف ٹرک نہیں بلکہ دیواریں، قدیم اشیا اور دیگر آرٹ ورک بھی ہیں جہاں وہ روایتی پاکستانی ٹرک آرٹ کو نئی شکل میں پیش کرتے ہیں۔
چند برس قبل ایک حادثے نے ان کی زندگی بدل دی اور وہ آٹھ ماہ تک بستر پر رہے۔ اور اب جب کسی دیوار پر مصوری شروع کرتے ہیں تو انہیں کئی مرتبہ تقریباً 20 فٹ بلند بانسوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔
جسمانی معذوری کے باعث وہ بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہیں، مگر ان کے مطابق فن نے انہیں کبھی رکنے نہیں دیا۔
سیار خان کہتے ہیں ’تکلیف بہت ہوتی ہے لیکن کام کرنا ضروری بھی ہے اور یہی میرا شوق بھی ہے۔ اسی لیے دوبارہ کام شروع کیا۔‘
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول سے فارغ ہونے کے بعد ان کے چچا انہیں ایک ٹرک آرٹ ورکشاپ پر لے گئے، جہاں سے اس فن کا سفر شروع ہوا۔
انہوں نے تقریباً نو برس اس کی تربیت حاصل کی اور پھر دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ ٹرکوں پر روایتی نقش و نگار بناتے رہے۔
بعد میں انہوں نے دیواروں اور بڑے آرٹ منصوبوں پر کام شروع کیا۔
ان کے مطابق ٹرک پر کام کرنے اور دیوار پر مصوری کرنے میں واضح فرق ہے۔
’دیوار پر ہر چیز زیادہ باریک بینی اور تفصیل سے بنانی پڑتی ہے، اسی لیے اس کا لطف بھی مختلف ہے۔‘
ان کے مطابق آج بھی انہیں کئی مرتبہ بیساکھیوں کے سہارے بلندی پر چڑھ کر مصوری کرنا پڑتی ہے جو آسان نہیں، مگر وہ اپنے فن کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وقت کے ساتھ انہوں نے ٹرک آرٹ کو صرف گاڑیوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مختلف اشیا پر بھی منتقل کیا۔ ان کے بنائے ہوئے فن پارے نمائشوں میں پیش کیے جاتے ہیں جبکہ وہ پاکستان میں قائم مختلف سفارت خانوں اور دیگر اداروں کے لیے بھی آرٹ ورک کر چکے ہیں۔
سیار خان کا کہنا ہے کہ دبئی ایکسپو میں بھی ان کے فن کو غیر ملکیوں نے سراہا، جبکہ ان کے تجربے میں بیرون ملک پاکستانی فنکاروں کے کام کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
’باہر لوگ ہمارے فن کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی لوگ اب میرے کام کو پسند کرتے ہیں، لیکن پہلے ایسا نہیں تھا۔‘
سیار خان کے مطابق اگر کسی نمائش سے مالی فائدہ نہ بھی ہو تو وہ اسے نقصان نہیں سمجھتے۔
’اگر میری وجہ سے پاکستانی ٹرک آرٹ زندہ رہتا ہے تو میرے لیے یہی کافی ہے۔‘
جسمانی معذوری نے ان کے قدم ضرور سست کیے مگر ان کے ہاتھ سے برش نہیں چھینا اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی وہ اسی عزم کے ساتھ پاکستانی ٹرک آرٹ کو نئی شناخت دینے میں مصروف ہیں۔