میکرامے آرٹ: ایبٹ آباد کی صائمہ خالد جنہوں نے صدیوں پرانے فن کو زندہ رکھا ہوا ہے

صائمہ خالد کا کہنا ہے وہ گھر پر ہی آرائش کی مختلف اشیا تیار کر کے انہیں آن لائن فروخت کرتی ہیں۔

دھاگہ یا رسی، بانس کی لکڑی، انگلیاں اور گرہیں ہی اس فن میں سب کچھ ہیں جس سے خوبصورت اشیا بنائی جاتی ہیں۔

اس فن کو میکرامے آرٹ کہا جاتا ہے جسے ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی صائمہ خالد نے زندہ رکھا ہوا ہے اور وہ آرائش کی مختلف اشیا بنا کر انہیں آن لائن بیچتی ہیں۔

میکرامے آرٹ میں کسی قسم کی سوئی یا کوئی دوسرا آلہ استعمال نہیں ہوتا بلکہ شروع سے آخر تک دھاگے اور رسی میں گرہیں لگا کر مختلف اشیا بنائی جاتی ہیں۔

صائمہ خالد نے یہ فن کئی سال پہلے آن لائن ویڈیوز دیکھ کر سیکھا اور اب اس میں مہارت رکھتی ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میکرامے آرٹ سے میں جھولوں سمیت چھوٹی بڑی آرائشی اشیا بناتی ہوں اور پاکستان کی چند خواتین میں شامل ہوں جو اس فن میں مہارت رکھتی ہیں۔‘

صائمہ خالد کے بقول: ’میں چند خواتین میں شامل ہوں جنہوں نے اس فن کو زندہ رکھا ہوا ہے اور کالج کے زمانے سے میں نے یہ سیکھا ہے۔ ‘

انہوں نے بتایا کہ جب میں نے اس کام کا آغاز کیا تو اس وقت انہیں اس میں استعمال ہونے والی رسی بھی نہیں ملتی تھی لیکن بعد میں آہستہ آہستہ ان کا کام مشہور ہونے لگا۔

صائمہ خالد نے بتایا کہ اب وہ مختلف اشیا بناتی ہیں لیکن انہیں بیچنا ایک چیلنج ہے کیوں کہ وہ گھر میں ہی انہیں بنا کر آن لائن بیچتی ہیں۔

صائمہ خالد نے بتایا، ’آن لائن بیچنے میں مسئلہ اعتماد کا بھی ہوتا ہے کیوں کہ ہماری کوئی دکان نہیں ہے جہاں ہم  ڈسپلے کر کے بیچ سکیں۔ حکومت کو اس حوالے سے مختلف اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کو بیچنے میں آسانی ہو۔‘

میکرامے فن کے ذریعے مختلف اشیا بنانے میں بہت وقت لگتا ہے اور صائمہ کے مطابق ایک بڑا جھولہ بنانے میں تقریباً 15 دن لگ جاتے ہیں، اگر دن میں چار سے پانچ گھنٹے اس کو وقت دیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میکرامے آرٹ کی تاریخ

میکرومے آرٹ صدیوں پرانا فن ہے۔ 'اینشنٹ ارتھ ہیلنگ ڈاٹ کام' کے مطابق یہ فن 13 ویں صدی میں عرب ثقافت میں پروان چڑھا اور ہسپانوی لفظ macrame (میکرامے) نام بھی عربی نام ’مقرمہ‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب لکیر دار تولیہ یا کڑھائی والا نقاب ہے۔

مسلمانوں کے ہاتھوں اندلس کی فتح کے بعد یہ فن سپین اور اٹلی تک پھیل گیا اور پھر یورپ میں مشہور ہو گیا اور 17 ویں صدی میں برطانیہ میں متعارف کرایا گیا۔

اس کے بعد 1970 کے بعد میکرامے پوری دنیا میں فیشن کا استعارہ بن گیا تھا اور اس فن کے ذریعے مختلف ہینگرز، کپڑے، شرٹس اور دسترخوان بننے شروع ہو گئے۔

میکرامے فن کے ذریعے زیورات جیسے نیکلس، بالیاں، انگوٹھیاں اور بریسلٹ بننے بھی شروع ہو گئے لیکن دورِ جدید اور مشینی دور میں اس کے بنانے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن