انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے عہدیداروں کے درمیان اتوار کی رات لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ملاقاتیں ہوئیں، جن میں پاکستان کے 15 فروری کو انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر غور کیا گیا۔
پاکستان بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی کے طور پر ورلڈکپ میں انڈیا سے میچ نہ کھیلنےکا اعلان کرچکا ہے۔
بنگلہ دیش نے انڈیا میں سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ درخواست آئی سی سی نے مسترد کردی اور بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو ایونٹ میں شامل کرلیا تھا۔
پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کی منظوری تو دی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ گرین شرٹس کولمبو (سری لنکا) میں ہونے والے روایتی حریف انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے۔
پاکستان نے انڈیا سے 15 فروری کو شیڈولڈ میچ کھیلنے سے انکار کیا ہوا ہے۔
اتوار کی رات گئے تک میٹنگ جاری رہی جب کہ آئی سی سی کے علاوہ دونوں کرکٹ بورڈز نے ان مذاکرات کے حوالے سے میڈیا سے بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
چار گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔
قبل ازیں شام کو آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچے جب کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام بھی کچھ ملاقاتوں میں حصہ لینے کے لیے الگ سے پہنچے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ کی اطلاع دیتے ہوئے پی سی بی نے کہا کہ آئی سی سی آفیشل کا لاہور ایئرپورٹ پر پی سی بی کے سربراہ کے مشیر عامر میر نے استقبال کیا۔
پی سی بی نے کہا کہ محسن نقوی نے قذافی سٹیڈیم میں امین الاسلام کا الگ سے خیرمقدم کیا، جہاں دونوں نے ’جاری بحران‘ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک ملاقات بھی کی۔
بی سی بی کے صدر نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے میں پاکستان کی ’سپورٹ‘ پر شکریہ ادا کیا۔
عامر میر اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سی ای او سلمان نصیر، جو پی سی بی چیئرمین کے مشیر بھی ہیں، بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔
اس سے قبل لاہور ایئر پورٹ پر سلمان نصیر اور دیگر حکام نے اسلام کا استقبال کیا۔
اعلیٰ سطح کے دورے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے کے ایک دن بعد ہوئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے کرکٹ ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’منتخب شرکت کی پوزیشن کو عالمی کھیلوں کے ایونٹ کی بنیاد کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے جہاں تمام اہل ٹیموں سے ایونٹ کے شیڈول کے مطابق مساوی شرائط پر مقابلہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔‘
اس نے امید ظاہر کی کہ پی سی بی اپنے ملک میں کرکٹ کے لیے اہم اور طویل مدتی مضمرات پر غور کرے گا کیونکہ اس سے عالمی کرکٹ ایکو سسٹم پر اثر پڑنے کا امکان ہے، جس کا وہ خود ایک رکن اور فائدہ اٹھانے والا ہے۔
کرکٹ کی عالمی تنظیم نے مزید کہا کہ ’آئی سی سی کی ترجیح آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کامیاب ترسیل ہے، جس کی ذمہ داری پی سی بی سمیت اس کے تمام ممبران کی بھی ہونا چاہیے۔ یہ پی سی بی سے ایک باہمی طور پر قابل قبول قرارداد کی تلاش کی توقع رکھتا ہے، جو تمام سٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔‘
روایتی حریفوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی بھی تصادم کرکٹ میں سب سے زیادہ منافع بخش ہوتا ہے، جس کی مالیت نشریات، کفالت اور اشتہارات سے ہونے والی آمدنی میں کروڑوں ڈالرز تک پہنچ جاتی ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ آئی سی سی نے اس مسئلے کو حل کرنے اور اہم مالی نقصانات سے بچنے کے لیے بیک چینل کوششیں شروع کی ہیں۔
سری لنکا کے کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے کہا کہ وہ انڈیا کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
سری لنکا کرکٹ نے پی سی بی کو بتایا کہ بائیکاٹ کے نتیجے میں مالی نقصان ہو گا اور جزیرے کی سیاحت کی صنعت کو بھی نقصان پہنچے گا، جو کہ 2022 کے معاشی بحران سے اب بھی بحال ہو رہی ہے۔
پاکستان، جس نے ہفتے کو ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں نیدرلینڈز کو شکست دی، اگر وہ میچ ہار جاتا ہے تو اسے دو پوائنٹس کا نقصان ہو گا اور اس کے نیٹ رن ریٹ کو بھی بڑا دھچکا لگے گا۔
کپتان سلمان آغا نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کا سیمی فائنل یا فائنل میں انڈیا سے مقابلہ ہوا تو حکومت سے دوبارہ مشورہ کریں گے۔