طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے جیسے حالات دوبارہ پیدا کر دیے ہیں: صدر زرداری

صدر پاکستان نے موجودہ افغان صورتحال پر کہا کہ یہ سب نائن الیون سے قبل کی یاد دلاتا ہے جب عسکریت پسند تنظیمیں عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی تھیں اور بالآخر نائن الیون جیسا سانحہ ہوا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو 9/11 سے پہلے کے دور جیسے یا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں (ریڈیو پاکستان)

اسلام آباد میں آج صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو 9/11 سے پہلے کے دور جیسے یا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔

انہوں نے ٹوئٹر پر موجود اپنے بیان میں مزید کہا کہ  حالات اسی طرح کے ہیں ’جب دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی تھیں اور جس کا انجام نائن الیون کے سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ ملک طالبان حکومت کی معاونت کر رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں جمعہ کو امام بارگاہ سے متصل مسجد قصر خدیجۃ الکبریٰ میں خود کش حملہ ہوا تھا جس میں حکام کے مطابق 31 افراد جان سے گئے جبکہ 170 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صدر زرداری نے اتوار کو دنیا بھر کے رہنماؤں اور ممالک کا پاکستان کے ساتھ اس غم کی گھڑی میں اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے ملنے والی خلوص پر مبنی حمایت اور ہمدردی پاکستان کے لیے باعثِ حوصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعزیت اور یکجہتی کے یہ پیغامات پاکستانی عوام کے لیے باعثِ تسلی اور سوگوار خاندانوں کے لیے تقویت کا ذریعہ بنے ہیں۔

صدر نے کہا کہ ان پیغامات سے اس حقیقت کی توثیق ہوتی ہے کہ ’دہشت گردی اور اس کے پیچھے کارفرما پرتشدد نظریے کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری اور سب کا مشترکہ معرکہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ کسی ایک ملک کے لیے تنہا ممکن نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب عسکریت پسند گروہوں کو قومی سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنا فراہم کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

انہوں نے اس تناظر میں نشاندہی کی کہ بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک جرم میں شریک بن چکے ہیں، جو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کو کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ بعض نہ صرف ان کی براہِ راست مالی معاونت کرتے ہیں بلکہ انہیں تکنیکی اور عسکری سہولتیں بھی فراہم کرتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس نے حالیہ برسوں میں خطے کی صورتحال کو واضح طور پر متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان حکومت کی معاونت کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی یکجہتی پاکستان کے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور دہشت گردی کے ہر روپ کے خاتمے کے لیے کام کرتا رہے گا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سانحہ اسلام آباد کے بعد ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا داعش کا ماسٹر مائنڈ کو فرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور ٹریننگ داعش افغانستان نے کی ہے اور افغانستان کے اندر ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان