بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا انعقاد 12 فروری سے ہو رہا ہے جو جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتے ہیں کیوں کہ ڈھاکہ میں نئی حکومت چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انڈیا کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کو ہوا دے سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہونے والے یہ انتخابات اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد پہلے الیکشن ہوں گے، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی ’آمرانہ حکومت‘ کا خاتمہ ہوا تھا۔
انڈیا کی جانب سے شیخ حسینہ کو پناہ دیے جانے اور ان کی حوالگی کے مطالبے کو مسترد کیے جانے نے ڈھاکہ میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت کو ناراض کیا ہے، جس کے بعد بنگلہ دیش نے چین اور پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے۔
17 کروڑ آبادی پر مشتمل مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے دور میں انڈیا ڈھاکہ کا سب سے بڑا شراکت دار رہا تھا لیکن یہ توازن اب بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان اور چین کی جانب جھکاؤ
امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینیئر فیلو جوشوا کرلنٹسک کے مطابق: ’بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور آنے والی حکومت واضح طور پر چین اور اس کے اتحادی پاکستان کی طرف جھکاؤ اختیار کر رہی ہے۔‘
ان کے مطابق بنگلہ دیش اب خلیج بنگال سے متعلق چین کی سٹریٹجک سوچ کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ محمد یونس کا پہلا سرکاری دورہ چین تھا، جو اس پالیسی تبدیلی کا واضح اشارہ تھا۔
جنوری میں دونوں ممالک نے انڈیا کے قریب شمالی بنگلہ دیش میں ایک مجوزہ ایئربیس پر ڈرون پلانٹ کے قیام کے لیے ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی کیا۔
انڈیا کے ساتھ کشیدگی
دوسری جانب، شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔
انڈیا نے دسمبر میں بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف تشدد پر تشویش ظاہر کی سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بگڑ گئے۔
ڈھاکہ نے انڈیا پر تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔
اگرچہ انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر جنوری میں ڈھاکہ گئے جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کو تعزیتی پیغام بھیجا۔
تاہم حالات اس وقت ناقابل یقین حد تک خراب ہو گئے جب ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو ہندو انتہاپسند احتجاج کے بعد آئی پی ایل سے نکال دیا گیا، جس کے ردِعمل میں بنگلہ دیش نے انڈیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبرداری اختیار کر لی۔
استحکام کو ترجیح
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ماہر پروین دونتھی کے مطابق، دونوں ممالک عملی رویہ اپنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت ممکنہ طور پر استحکام کو انتشار پر ترجیح دے گی۔
بنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات بحال کرتے ہوئے جنوری میں ایک دہائی بعد براہِ راست پروازیں شروع کیں۔
ماہرین کے مطابق چین کے ساتھ مضبوط تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ انڈیا کے ساتھ دشمنی ناگزیر ہو۔
جیسا کہ سابق سفارت کار ہیومایوں کبیر کے مطابق: ’یہ وہ کی صورت حال نہیں۔ ڈھاکہ کے دونوں ممالک سے تعلقات بیک وقت مضبوط رہ سکتے ہیں۔‘
بنگلہ دیش میں وزارت عظمیٰ کے سرِفہرست امیدوار طارق رحمان نے انتخابات کے بعد قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی تجویز مسترد کر دی۔ یہ تجویز ان کے مرکزی سیاسی حریف کی جانب سے دی گئی تھی۔ طارق رحمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اپنی قوت پر حکومت بنانے کے لیے پُراعتماد ہے۔
60 سالہ طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ ہیں، دسمبر میں تقریباً دو دہائیوں بعد جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے۔
12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی کا بڑا مقابلہ جماعت اسلامی سے ہے، جو شیخ حسینہ کے دور میں کالعدم رہی مگر اب دوبارہ متحرک ہو چکی ہے۔
روئٹرز کے مطابق دونوں جماعتیں 2001 سے 2006 تک اتحادی حکومت میں شامل رہ چکی ہیں۔ جماعت اسلامی نے حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر اتحاد کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ 2024 کے سیاسی بحران سے متاثر ہونے والی گارمنٹس انڈسٹری اور ملک میں استحکام لایا جا سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی این پی 300 رکنی پارلیمنٹ میں دو تہائی سے زیادہ نشستیں جیتنے کی توقع رکھتی ہے۔ جماعت 292 نشستوں پر خود انتخاب لڑ رہی ہے جبکہ باقی پر اتحادی امیدوار ہیں۔
عالمی تعلقات اور انڈیا، چین کے درمیان توازن
طارق رحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کو ایسے شراکت داروں کی ضرورت ہے جو 17 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے روزگار اور معاشی ترقی میں مدد دے سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی خارجہ پالیسی کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہوگی۔
ان کے بقول: ’جو بھی ملک بنگلہ دیش کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ہمارے عوام کے مفاد میں تعاون کرے گا، ہم اس کے ساتھ دوستی رکھیں گے۔‘
شیخ حسینہ کے بھارت میں قیام پر طارق رحمان نے کہا کہ 2024 میں ان کے خلاف فیصلہ آ چکا ہے، اس لیے انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔