بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کی حمایت میں اضافہ، اعتدال پسند حلقوں میں تشویش

مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی حکومت پاکستان کے زیادہ قریب بھی جا سکتی ہے، جو شیخ حسینہ کے دور کے برعکس ہو گا، جب انڈیا بنگلہ دیش کا سب سے اہم دوطرفہ شراکت دار تھا۔

31 دسمبر 2025 کی اس تصویر میں جماعت اسلامی کے امیر  شفیق الرحمان ڈھاکہ میں ایک انٹرویو کے دوران (روئٹرز)

بنگلہ دیش میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک انتخابی سیاست سے باہر رہنے کے بعد جماعت اسلامی خود کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے اور اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل نئی حمایت حاصل کر رہی ہے، جس سے اعتدال پسند حلقوں اور اقلیتی برادریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

جماعتِ اسلامی نے اپنی تنظیم نو کا آغاز اس نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے فوراً بعد کیا تھا جس نے اگست 2024 میں 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی کے بعد مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی بدعنوانی کے خلاف مہم، فلاحی سرگرمیوں اور نسبتاً زیادہ جامع عوامی مؤقف کے ذریعے اپنی تاریخ کی بہترین انتخابی کارکردگی دکھانے پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

امریکہ میں قائم انٹرنیشنل رپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے دسمبر میں کیے گئے ایک رائے عامہ کے سروے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ’پسند کی جانے والی‘ جماعت قرار دیا گیا اور 12 فروری کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے طبی کیمپوں، سیلابی امداد اور 2024 میں بغاوت کے دوران جان سے جانے والوں کے خاندانوں کی مدد کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم نے فلاحی سیاست شروع کی ہے، ردِعمل کی سیاست نہیں۔‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 1400 افراد جان سے چلے گئے تھے۔

شفیق الرحمان نے کہا: ’جو تعمیری سیاست جماعت اور اس کے ساتھی اب کر رہے ہیں، عوام اسی پر جماعتِ اسلامی پر اعتماد اور یقین کریں گے۔‘

جماعت کی جڑیں ہمہ گیر اسلام پسند جماعتِ اسلامی تحریک سے جا ملتی ہیں، جو 1940 کی دہائی کے اوائل میں برصغیر میں ابھری اور جس کا مقصد اسلامی اصولوں کے تحت معاشرے کا قیام تھا۔

جماعت نے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی تھی اور شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں اس کے کئی رہنماؤں کو جنگی جرائم کے ایک ٹربیونل کے ذریعے پھانسی دی گئی یا قید کیا گیا، جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی تھی۔

2013 میں ایک عدالتی فیصلے کے بعد جماعت اسلامی پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، کیونکہ اس کے منشور کو بنگلہ دیش کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیا گیا تھا۔

’ہمیں کچھ نیا چاہیے‘

گذشتہ برس جماعت اسلامی پر سے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی اٹھا لی گئی اور جماعت کے طلبہ ونگ نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے انتخابات میں شیخ حسینہ کی مخالف تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے قائم کی گئی نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی کو شکست دی۔

چند ماہ بعد جماعت اسلامی نے اسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کیا، جس کے بارے میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے جماعت کا نرم عوامی تاثر ابھرے گا۔

ڈھاکہ کے ایک گنجان بازار میں موبائل وین پر ناریل پانی فروخت کرنے والے 40 سالہ محمد جلال نے کہا: ’ہمیں کچھ نیا چاہیے اور نیا آپشن جماعت اسلامی ہے۔ ان کا عوامی تاثر صاف ہے اور وہ ملک کے لیے کام کرتے ہیں۔‘

سیاسی تجزیہ کار اور عالم دین شفیع محمد مصطفیٰ نے کہا کہ ’عوامی لیگ کے آمرانہ رجحانات نے وسیع پیمانے پر مایوسی کو جنم دیا، جس سے جماعت کو ’اسلام بطور حل‘ کے نعرے کو دوبارہ زندہ کرنے اور خود کو ایک اخلاقی متبادل کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملا۔‘

پہلی بار جماعت اسلامی نے ایک ہندو امیدوار کو نامزد کیا ہے اور حالیہ دنوں میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔ جماعت اپنی ویب سائٹ پر کہتی ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کی رہنمائی میں جمہوری بنگلہ دیش چاہتی ہے۔

جماعت کے رہنماؤں نے خواتین کو مساوی حقوق کی یقین دہانی بھی کروائی ہے، تاہم 300 پارلیمانی نشستوں کے لیے کسی خاتون کو امیدوار نامزد نہیں کیا گیا۔

شفیق الرحمان نے کہا کہ خواتین کو انتخابات کے بعد متناسب نمائندگی کے ذریعے مختص کی جانے والی 50 نشستوں میں نمائندگی مل سکتی ہے۔

خواتین کے حقوق کی تنظیم ناری پوکھو کی شیریں حق نے ان وعدوں کو ’انتخابی چال‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ’وہ اب جو کچھ بھی کہیں، آخرکار اپنی نظریاتی سختی کی طرف لوٹ جائیں گے، جس میں خواتین پر ہر شعبے میں پابندیاں شامل ہیں۔‘

بغاوت کے دوران پیش پیش رہنے والی 26 سالہ طالبہ کارکن امامہ فاطمہ بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ایک دن وہ خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن جماعت خواتین کے لیے دن میں پانچ گھنٹے کام کی بات کرے گی۔‘ اس سے مراد جماعت اسلامی کے امیر کی وہ تجویز ہے کہ خواتین صرف پانچ گھنٹے کام کریں تاکہ خاندان کی دیکھ بھال کر سکیں۔

’مجھے اپنی جان کا خوف ہے‘

شیخ حسینہ واجد کے اقتدار سے نکلنے کے بعد سے اسلام پسند گروہ مزید ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ہندو اور صوفی مزارات پر حملے کیے گئے ہیں، جبکہ غیر اسلامی قرار دی جانے والی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں روحانی لوک موسیقی کی محفلیں اور خواتین کے فٹ بال میچ شامل ہیں۔

عبوری حکومت نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ’زیرو ٹالرنس‘ کی یقین دہانی کروائی اور اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں ہندو سب سے بڑی اقلیتی برادری ہیں، جو آبادی کا تقریباً آٹھ فیصد ہیں۔ اس کے بعد بدھ مت اور مسیحیوں کی تعداد کہیں کم ہے۔

ایک اقلیتی برادری کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: ’اقلیتوں کو کبھی بھی کسی حکومت کے تحت حقیقی تحفظ حاصل نہیں رہا، مگر جو خوف اور عدم تحفظ ہم اب محسوس کر رہے ہیں وہ غیر معمولی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد اقتدار میں آیا تو یہ ایک حقیقی خطرہ ہے کہ بنگلہ دیش ایک مکمل اسلامی جمہوریہ کی جانب بڑھ جائے گا۔ آج مجھے اپنی جان کا خوف ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہوگا۔‘

جماعت کے ترجمان احسن المحبوب زبیر نے کہا کہ جماعت ’نہ کبھی مذہب کے نام پر تشدد یا عدم برداشت میں ملوث رہی ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کی ہے۔‘ بلکہ (اس نے ان واقعات کی) تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اتحادیوں کا جال

جماعت اسلامی، جو 2001 سے 2006 تک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں بننے والی حکومت میں جونیئر اتحادی رہی تھی، نے ملک کی بیشتر اسلام پسند جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کیا ہے، جن میں بعض زیادہ قدامت پسند بھی ہیں۔

جماعت نے گذشتہ برس کے اوائل میں ہی انتخابی امیدواروں کی فہرست سازی شروع کر دی تھی اور ووٹرز کے رجحانات جانچنے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ بھی خدمات پر لیا تھا۔

گذشتہ ہفتے جماعت نے کہا کہ وہ 179 نشستوں پر انتخاب لڑے گی، جن میں سے 74 نشستیں نیشنل سٹیزن پارٹی اور دیگر اتحادیوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ مزید 47 نشستیں ایک جماعت کے اتحاد سے نکلنے کے بعد ابھی تقسیم ہونا باقی ہیں۔

شیخ حسینہ کے دور میں جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی پانے والے جماعت اسلامی کے رہنما کے بیٹے میر احمد بن قاسم نے کہا: ’جماعت نے اپریل میں مجھ سے رابطہ کیا۔‘

میر احمد بن قاسم، جو خود بھی اگست 2024 میں رہائی سے قبل آٹھ برس خفیہ حراست میں رہے، نے کہا: ’انہوں نے مجھے اعداد و شمار دکھائے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ملک بھر کے لوگ پرانی جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہیں لگا کہ ایک حقیقی موقع موجود ہے اور میں شامل ہو گیا۔‘

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی حکومت پاکستان کے زیادہ قریب بھی جا سکتی ہے، جو شیخ حسینہ کے دور کے برعکس ہو گا، جب انڈیا بنگلہ دیش کا سب سے اہم دوطرفہ شراکت دار تھا۔ تاہم شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا: ’ہم سب کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتے ہیں۔ ہم کبھی کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ میں دلچسپی نہیں رکھتے، بلکہ ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور ممالک کے درمیان متوازن تعلقات چاہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا