انڈین ریاست میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

کرناٹک ایسی پابندی لگانے والی انڈیا کی پہلی ریاست بن جائے گی۔

19 مئی، 2020 کو انڈیا کے شہر سکندر آباد میں بس ٹرمنل پر بچے موبائل فون دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)

انڈیا کی شمالی ریاست کرناٹک میں جہاں بنگلورو کا ٹیکنالوجی مرکز واقع ہے، 16 سال سے عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

اس طرح وہ کم عمر افراد کے ڈیجیٹل استعمال پر زیادہ سخت نگرانی کے عالمی مطالبات میں شامل ہونے والی انڈیا کی پہلی ریاست بن جائے گی۔

بچوں میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی لت اور بغیر کسی مؤثر پابندی کے انٹرنیٹ تک رسائی کے باعث پیدا ہونے والے خدشات نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی ہے، جس کے بعد دسمبر میں آسٹریلیا بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا۔

انڈونیشیا نے بھی جمعے کو اعلان کیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرے گا اور اس طرح وہ ان تازہ ترین ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جو انٹرنیٹ کی لت کے خطرات کم کرنے کے لیے حفاظتی پابندیاں لگا رہے ہیں۔

برطانیہ، ڈنمارک اور یونان بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، جب کہ اسی نوعیت کی سوچ انڈیا کے دوسرے حصوں میں بھی ابھر رہی ہے۔ انڈیا دنیا کی سوشل میڈیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے، جو صرف ایک ہی نام استعمال کرتے ہیں، جمعے کو اپنے سالانہ بجٹ خطاب میں کہا ’بچوں پر موبائل کے بڑھتے ہوئے استعمال کے منفی اثرات کو روکنے کے مقصد سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے گی۔‘

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کب سے نافذ ہو گی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ریاستی حکومت ’سوشل میڈیا‘ کی تعریف کس طرح کرتی ہے اور بچوں کے استعمال کے لیے کن ایپس کو محدود کرنا چاہتی ہے۔

یہ بھی واضح نہیں کہ ریاست اس پابندی پر عمل درآمد کیسے کرائے گی۔

انڈیا میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (آئی ایف ایف) نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک غیر متناسب ردعمل ہو سکتی ہے، جو ’فائدے سے زیادہ نقصان‘ پہنچا سکتی ہے۔

اعلان کے بعد ایکس پر اپنی پوسٹ میں آئی ایف ایف نے لکھا ’ایسی پابندیاں اکثر ان بنیادی وجوہات سے نمٹنے میں ناکام رہتی ہیں، جیسے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن کے وہ طریقے جو تحفظ کے بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مصروف رکھنے پر زور دیتے ہیں، ناکافی ڈیٹا تحفظ کے ڈھانچے اور ڈیجیٹل آگاہی کے کمزور نظام جبکہ یہ بچوں کے معلومات، اظہار اور شرکت کے حق کو بھی محدود کرتی ہیں۔‘

اس تنظیم نے کہا کہ بچوں پر سوشل میڈیا کی مکمل پابندی ’صنفی بنیاد پر اخراج‘ کا بھی سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔

آئی ایف ایف نے کہا ’انڈیا کے تناظر میں، جہاں لڑکیوں اور کم عمر خواتین کو پہلے ہی ڈیجیٹل رسائی میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا ہے، وہاں ’تحفظ‘ کے نام پر لگائی گئی پابندی آسانی سے انہیں مکمل طور پر رابطے سے محروم کرنے کا ایک اور ذریعہ بن سکتی ہے۔‘

آسٹریلیا میں سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد موناش یونیورسٹی میں قانون کی پروفیسر پاؤلا گربر نے بھی یہ تشویش ظاہر کی تھی کہ محروم پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوعمر ایک ایسے اہم ذریعے سے کٹ سکتے ہیں جو ذہنی صحت کی مدد، کمیونٹی سازی اور شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انڈیا دنیا کی دوسری سب سے بڑی سمارٹ فون منڈی ہے، جہاں 75 کروڑ ڈیوائسز اور 100 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میٹا کے لیے یہ ملک اس کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں فیس بک، انسٹاگرام اور وٹس ایپ پر دنیا میں سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔

انڈیا کی وفاقی وزارت صحت کے 2019 سے 2020 کے دوران کرائے گئے سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق کرناٹک کی آبادی کا ایک چوتھائی سے بھی کم حصہ 15 سال سے کم عمر کا ہے۔

وفاقی حکومت کے تھنک ٹینک نیتی آیوگ کی 2025 کی ایک پریزنٹیشن کے مطابق اس ریاست کی آبادی چھ کروڑ 76 لاکھ ہے۔

بنگلورو، جسے اکثر انڈیا کی سلیکون ویلی کہا جاتا ہے، مائیکروسافٹ، ایمزون، آئی بی ایم، ڈیل اور گوگل جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مرکز ہے۔

کرناٹک کی ہمسایہ ریاست گوا بھی ایسی ہی پابندی پر غور کر رہی ہے، اس کے آئی ٹی وزیر نے جنوری میں یہ بات کہی تھی جبکہ اسی مہینے آندھرا پردیش کے ایک رکن اسمبلی نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا محدود کرنے کا بل پیش کیا تھا۔

انڈیا کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں کہا تھا کہ ’ڈیجیٹل لت‘ سے نمٹنے کے لیے دہلی کو عمر کی بنیاد پر رسائی کی حد مقرر کرنے سے متعلق پالیسیاں بنانی چاہییں، جسے وسیع حمایت ملی۔

تاہم بعض کارکنوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے ایسے اقدامات پر زور دیا ہے جن سے بچوں اور والدین کو سوشل میڈیا کے صحت مند اور محفوظ استعمال کی عادت ڈالنے میں مدد ملے، کیوں کہ ان کے مطابق عمر کی بنیاد پر لگائی جانے والی پابندیاں مؤثر نہیں ہوتیں، اس لیے کہ بچے جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے انہیں عبور کر سکتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا