ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے واحد شخص نے ایک سال بعد ’ایمان داری، شفافیت اور جواب‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
اس فضائی حادثے میں 241 افراد جان سے گئے تھے۔
برطانوی شہری وشواش کمار رمیش، جن کے بھائی بھی اس حادثے میں مارے گئے تھے، نے کہا کہ وہ ’شدید نفسیاتی مسائل‘ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
لندن جانے والا بوئنگ 787 ڈریم لائنر احمد آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد ایک میڈیکل کالج سے جا ٹکرایا تھا، جس میں 39 سالہ رمیش کے سوا طیارے میں سوار ہر شخص مارا گیا تھا۔
جان سے جانے والوں میں 169 انڈین مسافر اور 52 برطانوی شہری شامل تھے، جو برطانوی شہریوں کے لیے جان لیوا ترین حادثات میں سے ایک تھا۔ پرواز اے آئی 171 کے لوگوں کے علاوہ مزید 19 افراد بھی جان سے گئے اور 67 شدید زخمی ہوئے۔
وشواش کمار رمیش جو 20 سال سے زیادہ عرصے سے لیسٹر میں رہ رہے ہیں، پہلے کہہ چکے ہیں کہ ان کے بھائی اجے کی موت نے ’میری ساری خوشی چھین لی۔‘ رمیش نے اپنے زندہ بچ جانے کو ’معجزہ‘ قرار دیا تھا۔
حادثے کو 12 ماہ مکمل ہونے پر ایک مختصر بیان میں انہوں نے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ’بہت سے لوگ شاید پوری طرح نہیں سمجھتے کہ صدمہ حادثے کے دن ختم نہیں ہو گیا تھا۔
’میں شدید نفسیاتی مسائل، اپنے بھائی کے نقصان، اور اس بارے میں مسلسل جواب طلب سوالات کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا؟
’مجھے معلوم ہے کہ یہ سوالات صرف میرے ذہن میں نہیں ہیں، بلکہ ہر متاثرہ خاندان کے ذہن میں ہیں۔
’سب سے بڑھ کر، لوگوں کو ایمان داری، شفافیت اور جواب چاہیے۔ جو کچھ ہوا، اسے کوئی چیز نہیں بدل سکتی، لیکن خاندان وضاحت کے حق دار ہیں۔‘
تفتیش کاروں نے تاحال طیارہ حادثے کی وجہ کے بارے میں اپنے حتمی نتائج شائع نہیں کیے ہیں۔
انڈیا کے ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ اڑان بھرنے کے ’فوری‘ بعد طیارے کے دونوں فیول سوئچ ’کٹ آف‘ پوزیشن پر چلے گئے تھے، جس سے انجن کو ایندھن کی فراہمی رک گئی تھی۔
ان کے نمائندے سنجیو پٹیل نے بتایا کہ وشواش کمار رمیش نے مارچ میں احمد آباد میں فضائی حادثات کے تفتیش کاروں سے ملاقات کی تھی۔
سنجیو پٹیل نے کہا کہ حادثے میں بچ جانے والے مذکورہ شخص کو اپنی بیوی اور پانچ سالہ بیٹے کی کفالت کے لیے ایئر انڈیا کی جانب سے اب تک 21500 پاؤنڈز ملے ہیں، جو ایک عبوری ادائیگی ہے اور ان تمام خاندانوں کو فراہم کی گئی ہے جنھوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔
انھوں نے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا: ’وہ جسمانی، نفسیاتی اور مالی طور پر مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔
’ہم نے ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کے لیے بار بار کہا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
’ہم نے حال ہی میں ایئر انڈیا کے عہدے داروں اور ٹاٹا گروپ سے وابستہ نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔
’وہ بات چیت تعمیری رہی اور اس کے نتیجے میں کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ کئی اہم مسائل اب بھی زیر بحث ہیں۔
’حقیقت یہ ہے کہ وشواس اور ان کے خاندان کو مسلسل شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
’حادثے کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات کی وجہ سے وہ کام پر واپس جانے اور اپنے خاندان کی اس طرح کفالت کرنے کے قابل نہیں رہے جیسے وہ پہلے کیا کرتے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس وقت ماہانہ 1000 پاؤنڈ سے بھی کم پر گزارا کر رہے ہیں۔
’وہ اکیلے نہیں ہیں۔ حالیہ برسوں میں برطانوی شہریوں کو پیش آنے والے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک کے باوجود، نہ تو وشواس اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں میں سے اکثر جن سے ہم نے بات کی ہے، نے برطانوی حکومت کی جانب سے کوئی براہ راست رابطہ یا خصوصی مدد حاصل کی ہے۔‘
وشواش کمار رمیش حادثے کے بعد سول کارروائی کر رہے ہیں، اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ’ہم فضائی حادثے کی تحقیقات کی ہر تفصیل کا جائزہ لیں گے اور توقع کرتے ہیں کہ اس میں شامل تمام فریق کسی بھی غلطی، ناکامی یا غفلت کے سامنے آنے پر مناسب طریقے سے عمل کریں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہجل سالیسیٹرز کے وکیل پال میک لوری نے کہا کہ متعدد ممکنہ فریقین کے خلاف سول دعووں پر غور کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’ہماری ایئر انڈیا کے قانونی نمائندوں کے ساتھ اہم بات چیت ہوئی ہے اور وہ حالیہ دنوں میں بہت تعاون کرنے والے رہے ہیں، اور انھوں نے انتہائی ضروری جسمانی اور نفسیاتی بحالی کی مدد کے لیے کچھ ابتدائی فنڈز فراہم کیے ہیں۔
’ہم تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں، اور آخر کار ہمیں کچھ وضاحت ملنی چاہیے کہ یہ خوف ناک حادثہ کیسے اور کیوں پیش آیا، اور سب سے اہم بات یہ کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا تھا۔
’واضح طور پر اس سے سبق سیکھنا چاہیے، اور ایسا ہونے کے لیے مکمل شفافیت اور ذمہ داری قبول کرنے کی رضامندی ہونی چاہیے۔‘
دفتر خارجہ سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا۔
ایئر انڈیا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ایئر انڈیا اے آئی 171 کے سانحے سے متاثر ہونے والے ہر فرد کی دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
’اگرچہ ہم کسی بھی انفرادی کیس کی تفصیلات پر بات نہیں کر سکتے، لیکن ایئر انڈیا اور ٹاٹا گروپ کے نمائندوں نے مسٹر رمیش سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ایک تعمیری اور بامقصد گفتگو کی۔
’اس بات چیت سے مسٹر رمیش کی ضروریات اور خدشات کو سمجھنے میں مدد ملی، جس سے یہ واضح طور پر سمجھنے کے قابل ہوئے کہ ان کی بہترین طریقے سے کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔ ہم مسٹر رمیش اور ان کے نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں کہ ان تک مناسب مدد مسلسل پہنچائی جاتی رہے۔‘
© The Independent