پاکستانی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر کو برطانیہ کے ونڈسر کیسل میں منعقدہ انٹرنیشنل وومن لیڈرشپ سمٹ کے دوران ’شی لیڈز یو کے: گلوبل وومن آف ڈسٹنکشن‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سائرہ پیٹر کو اس تقریب میں بطور خصوصی مہمان مدعو کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے دنیا بھر سے آئی ممتاز خواتین کے ساتھ تین روز تک مختلف مباحثوں میں شرکت کی۔
سمٹ کا انعقاد شی لیڈز یو کے کی ڈائریکٹر ہیلینا کروفٹ ایم بی ای کی میزبانی میں ہوا۔
تقریب کے دوران سائرہ پیٹر کو چار مختلف مواقع پر پرفارم کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جسے ان کی عالمی سطح پر پذیرائی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کی پرفارمنسز کو شرکا کی جانب سے بھرپور سراہا گیا اور انہیں متعدد بار کھڑے ہو کر داد دی گئی۔
سائرہ نے روحانی کلام ’دی لارڈ بلیس یو اینڈ کیپ یو‘ اور ’دی لارڈز پریئر‘ پیش کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سمٹ کے دوسرے روز سائرہ پیٹر نے فنکاروں کے ایک پینل میں شرکت کی، جہاں ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے فروغ میں فنون کے کردار پر گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر انہوں نے اپنی تخلیق کردہ صوفی اوپیرا ’مارویز ٹیرز‘ سے ایک آریا پیش کیا، جو شاہ عبداللطیف بھٹائی کی معروف سندھی داستان پر مبنی ہے۔ اس جذباتی پیشکش کو حاضرین نے بھرپور سراہا۔
اختتامی تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد سائرہ پیٹر نے جرمن موسیقار کا معروف گیت ’لیٹ دا برائٹ سیرافم‘ پیش کیا، جس پر انہیں ایک بار پھر خوب پذیرائی ملی۔
سائرہ پیٹر اپنی منفرد موسیقی کے ذریعے پاکستان کے صوفی ورثے، امن کے پیغام اور ثقافتی ہم آہنگی کو عالمی سطح پر متعارف کرا رہی ہیں۔
مغربی اوپیرا اور جنوبی ایشیائی موسیقی کے امتزاج کے ذریعے وہ مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہیں۔