تھانے سے مشاعروں تک: لاہور کے پولیس افسر کی شاعری کے چرچے

لاہور پولیس کے انسپکٹر ندیم خالد نے سخت ڈیوٹی کے ساتھ شعری مجموعہ ’بختِ بسمل‘ لکھا جس پر آئی جی پنجاب نے انہیں ادبی صلاحیتوں پر نقد انعام اور تعریفی سند سے نوازا۔

لاہور پولیس کے انسپکٹر ندیم خالد کو ڈیوٹی کے ساتھ شعری مجموعہ لکھنے اور مشاعروں میں اعلیٰ کارکردگی پر آئی جی پنجاب نے نقد انعام اور تعریفی سند سے نوازا ہے۔

امن و امان قائم رکھنے اور دن رات سخت ڈیوٹی عام طور پر پولیس افسران اور اہلکاروں کو سخت مزاج بنا دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کا ادب سے لگاؤ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے لیکن لاہور پولیس کے انسپکٹر نے شاعری کے شوق کو فرائض کے ساتھ جاری رکھا۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم کو جب انسپکٹر ندیم خالد سے پیشہ ورانہ ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ بہترین شاعر ہونے کے ساتھ شعری مجموعے ’بختِ بسمل‘ کے مصنف بھی ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔

آئی جی نے شاعر پولیس افسر کو نہ صرف نقد انعام اور تعریفی سند سے نوازا بلکہ انہیں ادبی سرگرمیوں میں صلاحیتیں منوانے پر مبارکباد بھی دی۔

انسپکٹر ندیم خالد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے شاعری کا بچپن سے ہی شوق تھا۔ تعلیم کے ساتھ اپنے شوق کو بھی جاری رکھا۔ لیکن پھر پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد سخت ٹریننگ اور ڈیوٹی کے دوران شاعری کو جاری رکھنا مشکل کام تھا۔ میں نے اپنے اردگرد معاشرتی مسائل اور محکمہ پولیس کے حوالے سے آنے والے خیالات کو شاعری میں ڈھال دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول انسپکٹر ندیم: ’میں مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او کام کرتا رہا ہوں۔ اس دوران میں نے اپنی شاعری کو کتاب کی شکل دینے کا سوچا۔ کئی ماہ کی مسلسل کوشش سے شعری مجموعے پر مشتمل کتاب مکمل کر لی۔ اس دوران ہمارے شعبے میں ادب کو پروان چڑھانا مشکل تھا، کیونکہ ہمیں ہر وقت مجرموں اور سخت ڈیوٹیوں کا سامنا رہتا ہے۔ اس لیے اس طرح کے شوق پورے کرنا خواب ہی رہ جاتا ہے۔‘

انسپکٹر  ندیم نے مزید کہا: ’دورانِ ڈیوٹی ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ ایک دن تھانے میں ایک ڈکیتی کیس میں ملوث عادی مجرم کی تفتیش کر رہا تھا۔ اسی دوران ایک دوست تھانے میں ملنے آگیا۔ میں نے اس کی فرمائش پر شعر سنایا، جس میں مفید شہری بن کر رہنے اور دوسروں کا بھلا کرنے کی نصیحت دی گئی تھی۔

کافی عرصہ گزر گیا تو وہی ملزم میرے پاس ڈیوٹی کے دوران آیا۔ وہ کافی مہذب دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے کہا، سر آپ نے پہچانا؟ میں نے کہا، نہیں۔ وہ بولا، میں وہی ملزم ہوں جس کی آپ نے تفتیش کی تھی۔ میں نے آپ کا ایک شعر سنا اور جرائم سے توبہ کر لی۔ یہ میرے لیے حیران کن واقعہ تھا۔‘

انسپکٹر ندیم کے بقول: ’میں نے کئی سنگین جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشنز میں حصہ لیا۔ سکیورٹی کے طور پر حساس ڈیوٹی انجام دی، لیکن جو سکون شاعری سے ملا، وہ کہیں سے حاصل نہیں ہوا۔ میری خواہش ہے کہ شاعری کے ذریعے نہ صرف ادب بلکہ معاشرتی بہتری کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کرتا رہوں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ادب