لکھنؤ کے نوابوں کی ختم ہوتی خفیہ زبانیں

نوابی دور کے شاہی خاندانوں نے ایسی مخصوص زبانیں تخلیق کیں جو نجی اور خفیہ گفتگو کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

تہذیب، شائستگی اور نفاست کے لیے انڈیا کے مشہور شہر لکھنؤ کی تاریخ میں ایک ایسا پہلو بھی چھپا ہوا ہے جو نہایت دلچسپ ہونے کے باوجود کم ہی زیر بحث آتا ہے یعنی اودھ کے نوابوں کی خفیہ زبانیں۔

شاندار امام بارگاہوں، درباری آداب اور کلاسیکی شاعری سے آگے بڑھ کر نوابی دور کے شاہی خاندانوں نے ایسی مخصوص زبانیں تخلیق کی تھیں جو نجی اور خفیہ گفتگو کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

 یہ زبانیں بیگمات، قریبی رشتہ داروں اور معتمد افراد کے درمیان بولی جاتی تھیں تاکہ عوامی یا درباری ماحول میں بھی بغیر کسی بیرونی شخص کی سمجھ میں آئے پیغام رسانی ممکن ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ان زبانوں میں ’تیک کی زبان‘، ’زر زری زبان‘، ’فرفری زبان‘ اور دیگر بولیاں شامل تھیں، جن کی اپنی الگ ساخت، رمزی الفاظ اور مخصوص آہنگ ہوا کرتا تھا۔

یہ محض خفیہ ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہانت، ظرافت اور ثقافتی شناخت کا مظہر بھی تھیں۔

ان کے ذریعے نواب باآسانی تبصرہ کر سکتے، ہدایات دے سکتے یا ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کر سکتے تھے جب کہ حاضرین میں سے اکثر اس گفتگو کو سمجھنے سے قاصر رہتے تھے۔

لکھنؤ کی معروف روایت سے وابستہ خاندان سے تعلق رکھنے والے اظہرسن پرفیومز کے مالک عمران احمد عباسی ان چند افراد میں شامل ہیں جو آج بھی ان زبانوں کو یاد رکھتے اور ان پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ زبانیں نہ صرف شاہی محفلوں بلکہ بازاروں اور سماجی تقریبات میں بھی استعمال ہوتی تھیں، جہاں ان کی موسیقیت اور انداز بیان نوابی طرز زندگی کی جھلک پیش کرتے تھے۔

عمران احمد عباسی نے بتایا ’یہ زبانیں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں تھیں بلکہ ایک مکمل فن تھیں، جن میں ہر لفظ کے پیچھے ایک تہذیبی پس منظر اور ذہانت کارفرما ہوتی تھی۔‘

یہ ان افراد کی کوششوں کو بھی اجاگر کرتا ہے جو اس نایاب ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے سرگرم ہیں۔

ان میں بزرگ شہری، ثقافتی مورخین، عطر ساز، شعرا اور لکھنؤ کے قدیم خاندان شامل ہیں، جنہوں نے اپنے گھروں میں ان زبانوں کو سنا اور سمجھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے نزدیک یہ زبانیں محض ایک عجوبہ نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی زندہ یاد ہیں جب زبان کو ایک فن کی حیثیت حاصل تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زبانوں میں الفاظ کو توڑ مروڑ کر، ہجوں کو الٹ کر یا آوازوں کو نرم کر کے ایک نیا انداز تخلیق کیا جاتا تھا، جو بظاہر سادہ مگر درحقیقت پیچیدہ معنی رکھتا تھا۔

یہ انداز نہ صرف خفیہ ابلاغ کو ممکن بناتا تھا بلکہ بولنے والے کی ذہانت اور نفاست کو بھی ظاہر کرتا تھا۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ یہ زبانیں تیزی سے معدوم ہو رہی ہیں۔ جدید دور میں جہاں علاقائی بولیاں اور اردو کی مختلف شکلیں بھی زوال کا شکار ہیں، وہاں ان خفیہ زبانوں کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور ثقافت کا امین ہوتی ہے۔ جب کوئی زبان ختم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک مکمل طرز زندگی اور سوچ بھی مٹ جاتی ہے۔

ایسے میں ان نوابی زبانوں کو دستاویزی شکل دینا نہایت ضروری ہے تاکہ لکھنؤ کی اس غیر مادی ثقافتی میراث کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ادب