پاکستان نے بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان کے مطابق غیر قانونی اقدامات دو ریاستی حل کے حصول اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
منگل کو برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ برطانیہ ان بستیوں سے آنے والی تمام اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے مالی معاونت، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، جائیداد اور اشتہارات سمیت بعض خدمات پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کریں گے۔
ملی بینڈ کا مزید کہنا تھا کہ ’برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے علاقوں میں آبادکار دہشت گردوں کی جانب سے فلسطینیوں کا نسلی صفایا کیا جا رہا ہے۔‘
پاکستان نے کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سپین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک کی جانب سے بھی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے کے اعلانات کا خیرمقدم کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو امید ہے کہ یہ اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرنے کا واضح اور دوٹوک پیغام دیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد میں ماضی میں بھی ان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی کھڑا رہے گا۔
پاکستان نے ایک خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے بعض ارکان نے ایسے بیانات دیے اور اقدامات کیے ہیں جو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت کرتے ہیں۔‘
برطانوی اقدام کے بعد اسرائیل نے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کو 30 دن میں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے سے کہا ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہاں موجود ان کے سفارت کار اپنی ایکریڈیشن کھو دیں گے۔