دہشت گردی کے خاتمے تک کے پی میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی: شہباز شریف

جنوبی وزیرستان میں چوکی پر ’بزدلانہ‘ حملہ ناکام بنانے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین۔ انہوں نے کہا کہ قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف وزیر اعظم ہاؤس میں کرسمس کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (ایوان وزیر اعظم اسلام آباد)

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک سے ’دہشت گردی‘ کے مکمل خاتمے تک خیبر پختونخوا میں فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

ان کا یہ بیان رواں ہفتے سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں حملہ ناکام بنائے جانے کے بعد سامنے آیا۔

سکیورٹی فورسز نے ہفتے کو جنوبی وزیرستان میں ایک چوکی پر خودکش حملہ ناکام بنا کر چار عسکریت پسندوں کو مار دیا، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔

 پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ فوجیوں نے چوکی کے باہر حملہ آوروں کی بارود سے بھری گاڑی تباہ کر دی، جس سے خودکش بمبار مارا گیا۔

باقی تین عسکریت پسندوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں ایک قریبی عمارت میں گھیر لیا گیا، جہاں کارروائی کے دوران انہیں مار دیا گیا۔

پاکستانی فوج نے اس حملے کی کوشش کا ذمہ دار ’فتنہ الخوارج‘ کو قرار دیا۔

فوج یہ اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں شہباز شریف نے چوکی پر ’بزدلانہ‘ حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی فوری کارروائی کو سراہا۔

شہباز شریف نے کہا ’حکومت اور سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک آپریشن عزم استحکام کے تحت پوری قوت اور عزم کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

’پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 جنوبی وزیرستان میں حملے کی کوشش ایسے وقت کی گئی جب رواں ہفتے خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔ 

جمعے کو عسکریت پسندوں نے ٹانک میں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ چوکی پر حملہ کیا، جس میں 12 فوجی، دو پولیس اہلکار اور ایک سرکاری افسر مارے گئے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ تر حملے افغانستان کی سرحد سے ملحق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروہ سرحد پار افغان علاقوں میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔

پاکستان انڈیا پر بھی بار بار ان گروہوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا ہے۔ کابل اور نئی دہلی دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان