پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو استنبول میں پاکستان اور ترکی کے درمیان منعقدہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال مئی میں انڈیا کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان کے موثر سفارتی کردار اور ترکی سمیت مختلف دوست ممالک کی بھرپور حمایت سے خطے میں امن کا قیام عمل میں آیا ہے نیز ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترک سرمایہ کاروں کو توانائی، معدنیات، آبی ذخائر، لائیو سٹاک، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور اکنامک زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔
یہ کانفرنس صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی دو طرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے منعقد کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی پرتپاک مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پاکستان اور ترکی کی شراکت داری میں موجود بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔
وزیراعظم نے صدر طیب اردوان کی قیادت میں ترکی کی بے مثال ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کان کنی، معدنیات، آئی ٹی، ٹیلی کام اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکی کے نجی شعبوں میں مربوط شراکت داری سے دونوں ملکوں کے عوام بھرپور مستفید ہوں گے۔
وزیراعظم نےمعاشی استحکام اوربیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ترک سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف گذشتہ روز ایران سے ترکی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں پاکستانی وفد کی ہمراہ شرکت کی تھی۔