کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے پیر کو کہا ہے کہ انہیں ایک بار پھر نقشبند صاحب میں خواجہ دگر کے سالانہ مذہبی اجتماع سے خطاب کی اجازت نہ دیتے ہوئے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر کے علاقے خواجہ بازار نوہٹہ میں ہر سال 3 ربیع الاول کو حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاریؒ کے عرس کے سلسلے میں ایک اجتماع منعقد ہوتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس موقعے پر خصوصی اجتماعی نمازِ عصر مزار کے اطراف اور نوہٹہ سے خانیار کی جانب جانے والی سڑک پر ادا کی جاتی ہے۔
پیر (17 اگست) کو بھی اس اجتماع میں عقیدت مند روایتی خواجہ دگر کی نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے، تاہم حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو اس میں شرکت سے روک دیا گیا۔
میر واعظ عمر فاروق آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم رہنما ہیں، اس سے قبل بھی انہیں کئی بار تاریخی جامع مسجد، سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا جا چکا ہے۔
حریت رہنما کے دفتر کی جانب سے ایکس پر جاری ان کے ویڈیو پیغام میں کہا گیا: ’میر واعظ کی حیثیت سے مجھے مذہبی اجتماعات سے خطاب کرنے سے روکنا، میرے سیاسی نقطۂ نظر اور لوگوں کے سماجی و مذہبی مسائل اٹھانے کی پاداش میں مجھے سزا دینا، اگرچہ حکمرانوں کی اب مانوس ہو چکی جابرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، تاہم کم از کم یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ یہ افسوس ناک اور شرمناک ہے۔‘
Once again I have been denied permission to address the time honoured religious gathering of Khawaja diger in Naqshband sahab today,with tens of thousands of people eagerly waiting there to participate in this spiritually uplifting religious congregation observed on the 3rd… pic.twitter.com/yWT4hcrHSS
— Mirwaiz Umar Farooq (@MirwaizKashmir) August 17, 2026
انہوں نے مزید کہا: ’اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکام کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور مذہبی رسومات کے حوالے سے مسلسل بے حسی اور بے توقیری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، انہیں وعظ سننے اور ایک روحانی تجربے میں شریک ہونے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔‘
بقول میر واعظ: ’اس معاملے پر مسلسل خاموشی مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو دبانے کے عمل کو معمول کا حصہ بنانے کا باعث بنے گی۔‘
حریت رہنما نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’یہ سب کی، بالخصوص منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وادی اور جموں کے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرے، طاقتور قوتوں کے سامنے کھڑی ہو اور انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرے۔‘
میر واعظ کے اس دعوے پر حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔