نکول کڈمین کو اصل عمر سے 30 سال کم دکھانا ضروری نہیں؟

فلم سٹار نکول کڈمین نے 59 برس کی عمر میں خود کو نئے انداز میں پیش کر کے ایک متاثر کن مثال قائم کی ہے، لیکن ہمیں اپنی درمیانی عمر کی رول ماڈلز کو ایسا دکھانے کی ضرورت نہیں کہ گویا وہ اب بھی 20 برس کی ہوں۔

4 مئی 2026 کو نیویارک میں میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں منعقد ہونے والے 2026 میٹ گالا میں، جس کا موضوع ’کاسٹیوم آرٹ‘ تھا، امریکی اداکارہ نکول کڈمین شریک ہیں (مائیک کوپولا/اے ایف پی)

مجھے 59 سالہ امریکی اداکارہ نکول کڈمین کی ووگ کے سرورق کہانی میں کہی گئی ہر بات پسند آئی، جس میں انہوں نے اپنی درمیانی عمر کے نئے سفر کے بارے میں گفتگو کی (جو 15 اگست کو شائع ہوئی ہے)۔

کتنا متاثر کن ہے کہ وہ اپنی زندگی کی چھٹی دہائی میں نئے سرے سے اکیلی داخل ہو رہی ہیں، ان کی دو نوعمر بیٹیاں 18 سالہ سنڈے روز 15 سالہ فیتھ ہیں اور انہوں نے موسم گرما ایبیزا میں موسیقی اور جشن کی محفلوں میں گزارا، گلاسٹن بری میں لطف اٹھایا، ویمبلڈن ٹینس دیکھتے ہوئے سکون کے لمحات گزارے (وہ کہتی ہیں کہ صرف گیند کے ریکٹ سے ٹکرانے کی آواز سن کر ہی انہیں سکون محسوس ہوتا تھا)، یہ سب حال ہی میں اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد ہوا۔ انہوں نے ووگ کو بتایا: ’لندن، ایبیزا، پیرس، پورٹوفینو... ایک یورپی موسم گرما۔‘

کڈمین ایک ’کوئین ایجر‘(Queenager) آئیکون ہیں۔ (کوئین ایجر درمیانی عمر کی وہ خواتین ہیں جو اپنی زندگی بھرپور انداز میں گزار رہی ہیں۔ یہ اصطلاح تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، حتیٰ کہ مشیل اوباما نے بھی گذشتہ ہفتے اپنے پوڈکاسٹ میں اس کا استعمال کیا)۔ اس میں تمام عناصر موجود ہیں۔ طلاق کے بعد ان کی نئی شناخت موجودہ رجحانات کے عین مطابق ہے۔

’میٹ دی کوئین ایجرز: دی سیکرٹس آف مڈلائف ویمن‘ کے عنوان سے 2,000 درمیانی عمر کی خواتین پر کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق، جس کا برطانیہ کی مجموعی آبادی سے تقابل کیا گیا، 50 برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے نصف سے زیادہ خواتین کم از کم پانچ بڑے تجربات سے گزر چکی ہوتی ہیں، جن میں طلاق، کسی عزیز کی وفات، ملازمت سے برطرفی، عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال، مینوپاز اور جین زی نسل کے بچوں کو خودمختار زندگی شروع کرنے میں مدد دینا شامل ہیں۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں ایک ہی وقت میں زندگی کے درمیانی مرحلے میں ٹکرا جاتی ہیں، لیکن تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس مرحلے پر جتنی زیادہ چیزوں سے ایک عورت گزرتی اور جتنے زیادہ بوجھ اتارتی ہے، بالآخر وہ اتنی ہی زیادہ خوش رہتی ہے۔

کنٹری گلوکار کیتھ اربن سے 19 سالہ شادی کے خاتمے کے بعد کڈمین جس طرح اپنی نئی زندگی کو اپنا رہی ہیں، وہ ان کی ہم عمر خواتین کے تجربات سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ ان کی طرح درمیانی عمر کی خواتین کی ایک نسل بھی اب خاموشی سے زندگی کے اختتامی حصے کی طرف نہیں بڑھ رہی بلکہ اس طویل عمر کو کھلے دل سے قبول کر رہی ہے جو انہیں نصیب ہوئی ہے۔

گذشتہ 100 برسوں میں اوسط عمر تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ ہم شاید اپنی توقع سے کہیں زیادہ، غالباً 90 برس یا اس سے بھی آگے تک زندہ رہیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ 50 یا حتیٰ کہ 60 برس زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک شان دار نئے کوئین ایجر دور کا آغاز ہے۔

کڈمین اپنے اس نئے دور کو یوں بیان کرتی ہیں: ’جیسے آزادانہ طور پر گر رہی ہوں (فری فال)‘ یا ’جیسے کسی جگہ سے چھلانگ لگا دی ہو اور اب سوچ رہی ہوں کہ میں کہاں جا رہی ہوں اور آگے کیا ہے؟‘ اسی لیے کوئین ایجرز کسی حد تک نوعمر افراد کی طرح ہوتی ہیں۔

یہ ایک عبوری مرحلہ ہے، کچھ حد تک ہارمونل تبدیلیوں سے جڑا ہوا اور زندگی کے ایک بالکل نئے باب میں داخل ہونے کا لمحہ۔ مجھے اس دور کی توانائی بہت پسند ہے، جس کی بہترین مثال کڈمین کا یہ جملہ ہے: ’یا تو میں سکریبل کھیل رہی ہوتی ہوں یا پھر گھر سے باہر ہوتی ہوں۔ بات اتنی سادہ ہے۔‘

ایبیزا میں ان کی ایک عام شام کچھ یوں ہوتی ہے: ’رات ساڑھے دس بجے کھانا اور رات ایک بجے کلب۔‘ وہ کہتی ہیں کہ وہ ’خفیہ‘ رہنے کی ماہر ہیں، ایک چھوٹی سیاہ وِگ اور دھوپ کا چشمہ پہن لیتی ہیں تاکہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے، ’تاکہ میں بس رقص کر سکوں۔۔۔ مجھے اس کی ضرورت ہے!‘ ایک بار پھر، یہ رجحان کے عین مطابق ہے۔ یہ درمیانی عمر کے افراد کی ڈے ریو یا کافی ریو والی گرمیوں کا موسم رہا ہے۔ آج کی درمیانی عمر کی خواتین رقص کے ذریعے اپنی پریشانیاں دور کرتی ہیں۔

کڈمین کے بارے میں جو بات مجھے خاص طور پر پسند آئی وہ ان کا اپنی حیثیت کے بارے میں بے نیازی کا اظہار تھا: ’مجھے واقعی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کال شیٹ میں میرا نمبر کیا ہے یا مجھے کس طرح کریڈٹ دیا جاتا ہے۔‘

ان کے لیے اہم بات یہ نہیں کہ چیزیں کیسی دِکھتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیسی محسوس ہوتی ہیں اور ثقافت کے لیے ان کی بے پناہ محبت واقعی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے آسکر ایوارڈز جیتے ہیں، سٹینلے کیوبرک کی آخری فلم میں کام کیا ہے اور ان کا کام کرنے کا انداز قابل تقلید ہے، لیکن وہ جتنا فن تخلیق کرتی ہیں، اتنا ہی فن اپنے اندر بھی سمیٹتی ہیں۔

حال ہی میں وہ برطانوی تھیٹر سے خوب لطف اندوز ہو رہی ہیں، جن میں ڈونمار میں ’دی گلٹی‘ اور برج تھیٹر میں ’اوریسٹیا‘ شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ لندن میں دوبارہ سٹیج پر کام کرنا پسند کریں گی (اور یہ کہ نوٹنگ ہل میں ان کا ایک فلیٹ گذشتہ 20 برس سے موجود ہے)، لیکن انہیں شاعری سے بھی محبت ہے، خاص طور پر ایسی شاعری سے جو طلاق کے بعد کے دکھ کو سکون دے سکے، خصوصاً فلپ لارکن کی شاعری۔ اس وقت وہ ارون دھتی رائے کو پڑھ رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کڈمین نے ستمبر میں اپنے دوسرے شوہر سے طلاق کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ (ان کی پہلی شادی ٹام کروز سے تھی جو 2001 میں دس سال بعد ختم ہوئی۔) انہوں نے علیحدگی کی وجہ ناقابل مصالحت اختلافات کو قرار دیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ محض ایک احساس تھا: ’میں ایسی ہی ہوں، میں چیزوں کے بارے میں حد سے زیادہ نہیں سوچتی۔ میں زیادہ تر اپنے احساسات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہوں اور دل کی سنتی ہوں۔ میں بس سوچتی ہوں،‘ ٹھیک ہے، مجھے یہاں کیا محسوس ہو رہا ہے؟ چلو اسے آزما کر دیکھتے ہیں۔‘

ایک بار پھر، دل کی سننا اور اس بات کو اہمیت دینا کہ اس وقت ہمارے لیے کیا بہتر ہے، کوئین ایجر تبدیلی کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ اس بات کا نام ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ اس مرحلے پر ہمارے لیے کیا مفید ہے اور اس کی فکر نہ کریں کہ لوگ کیا کہیں گے یا ہم پہلے کیا تھے۔

درمیانی عمر کی خواتین کے اس نیٹ ورک میں، جس کی میں نے بنیاد رکھی اور جسے میں چلاتی ہوں یعنی noon.org.uk، ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی خواتین کے لیے وہ چیز جو ان کی زندگی کا مرکز رہی ہو، اس مرحلے پر ختم ہونے لگتی ہے۔

یہ شادی ہو سکتی ہے، ایک کیریئر ہو سکتا ہے، یا گھر میں رہ کر بچوں کی پرورش کا کردار ہو سکتا ہے، لیکن تقریباً 50 برس کی عمر میں، جو بھی وہ چیز ہو، اس کا اختتام آ جاتا ہے۔ ہمیں ملازمت سے فارغ کر دیا جاتا ہے، بچے گھر چھوڑ دیتے ہیں، یا ہماری طلاق ہو جاتی ہے۔ یقیناً کسی ایسی چیز کا خاتمہ جو زندگی کے مرکز میں رہی ہو ایک غم ناک عمل ہے۔ یہ تبدیلی بھی ایک طرح کا سوگ ہے، بالکل اس تتلی کی طرح جو اپنے خول کے اندھیرے میں ایک نئی پیدائش کی منتظر ہوتی ہے۔

لیکن اس کوئین ایجر ازسرنو جنم کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ بے حد خوشگوار ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی زندگی تعمیر کرنے کا موقع دیتا ہے جو واقعی ہماری اصل شخصیت سے ہم آہنگ ہو۔ ایسی زندگی جہاں ہمارا ظاہری وجود بالآخر اس اندرونی شخصیت سے مطابقت اختیار کر لے جسے ہم حقیقت میں محسوس کرتے ہیں۔

اس انٹرویو اور اپنی موجودہ زندگی میں کڈمین غالباً اسی کیفیت کا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ اپنے حقیقی احساسات اور وجدان سے رابطہ قائم کرنے کا عمل ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ اب ہم واقعی کون ہیں اور آگے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ماضی کی طرف دیکھنے کے بجائے خوشی، جوش اور امکانات سے بھرپور جذبے کے ساتھ اپنے اگلے باب میں چھلانگ لگانے کا نام ہے۔

کڈمین کہتی ہیں کہ وہ ’نئی چیزیں آزمانا، غلطیاں کرنا، ناکام ہونا، پھر اٹھ کھڑا ہونا، آگے بڑھنا، محبت کو قبول کرنا، اپنے آپ کو کھلا رکھنا، دل کو کھلا رکھنا اور امکانات کا استقبال کرنا‘ چاہتی ہیں۔ یہ ایک نئے کوئین ایجر منشور کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

لہٰذا مجھے کڈمین کی کہی ہوئی تقریباً ہر بات پسند ہے، بس ایک چھوٹی سی شکایت ہے۔ برٹش ووگ کو انہیں اس قدر ایئر برش اور آراستہ کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کہ وہ 59 کے بجائے 29 سال کی نظر آئیں؟

میں جانتی ہوں کہ وہ فلمی سلیبریٹی اور فیشن آئیکون ہیں، اس لیے عام اصول ان پر پوری طرح لاگو نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس دنیا بھر کا سرمایہ اور بہترین سٹائلسٹس موجود ہیں، لیکن میرے لیے کوئین ایجر کڈمین کی شخصیت کو مکمل بنانے والی آخری چیز یہ ہوگی کہ وہ واقعی ایک شان دار 59 سالہ خاتون کے طور پر سامنے آئیں۔ یقیناً وہ کلوئی کے چشمے پہنیں، شان دار جینز اور بہترین ملبوسات زیب تن کریں، لیکن انہیں اس حد تک غیر حقیقی انداز میں ایئر برش نہ کیا جائے۔ کوئین ایجر تبدیلی کے لیے ہمیں نوعمر دکھائی دینے کی ضرورت نہیں!

اگر ووگ کے سرورق پر انہیں واقعی اپنی عمر کے مطابق نظر آنے کی اجازت دی جائے، تو وہ حقیقتاً ایک ایسی کوئین ایجر آئیکون بن جائیں گی جسے ہم سب اپنا رول ماڈل بنا سکیں۔

الینور ملز NOON.org.uk کی بانی اور ’مچ مور ٹو کم: لیسنز آن دی میہم اینڈ میگنیفیسنس آف مڈلائف‘ کی مصنفہ ہیں، جسے ہارپر کولنز نے شائع کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل