ہالی وڈ کے ایک نمایاں سکرین رائٹر نے مصنوعی ذہانت سے بنی وائرل ویڈیو پر اپنا سخت ردعمل دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ’ہمارا وقت شاید ختم ہو گیا ہے۔‘
یہ 15 سیکنڈ کا کلپ بظاہر ٹام کروز اور بریڈ پٹ کو ایک سنسنی خیز ایکشن فائٹ سین میں لڑتے ہوئے دکھاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ منظر کسی فلم کا نہیں جس میں دونوں مشہور اداکار شامل ہوں۔
اس کے خالق کے مطابق یہ ویڈیو محض ’دو لائنوں کی پرامپٹ‘ پر ٹک ٹاک کی چینی پیرنٹ کمپنی کے ایک مصنوعی ذہانت والے ٹول سے بنائی گئی ہے۔
آئرش فلم ساز روری رابنسن کی یہ ویڈیو ایکس پر 15 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی جا چکی ہے اور صنعت سے وابستہ شخصیات اور فلمی شائقین کے ردعمل کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
’ڈیڈپول اینڈ وولورین‘ کے سکرین رائٹر ریٹ ریز بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے ابتدا میں صرف اتنا کہا ’یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے۔ ہمارا دور شاید ختم ہو چکا۔‘
ایک فالو اَپ پوسٹ میں انہوں نے لکھا ’بہت جلد ایک شخص کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ایسی فلم بنا سکے گا جو ہالی وڈ کی موجودہ ریلیز ہونے والی فلموں سے ممیز نہ ہو۔
’یہ صحیح ہے کہ اگر اس شخص میں صلاحیت نہ ہوئی تو نتیجہ خراب ہو گا۔‘
’لیکن اگر اس شخص میں کرسٹوفر نولان جیسی صلاحیت اور ذوق ہوا (اور اس طرح کا کوئی شخص بہت جلد سامنے آ جائے گا) تو نتیجہ حیران کن ہوگا۔‘
ریز نے مزید کہا وہ ’تخلیقی کاموں میں اے آئی کی دراندازی‘ سے بالکل خوش نہیں۔
This was a 2 line prompt in seedance 2. If the hollywood is cooked guys are right maybe the hollywood is cooked guys are cooked too idk. pic.twitter.com/dNTyLUIwAV
— Ruairi Robinson (@RuairiRobinson) February 11, 2026
’اس کے برعکس، میں خوف زدہ ہوں۔ میرے بہت سے پیارے لوگ اپنے پسندیدہ کیریئر کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
’میں خود بھی خطرے میں ہوں۔ جب میں نے کہا ’سب ختم ہو گیا‘ تو میرا مقصد کوئی ہلکا پھلکا تبصرہ نہیں تھا۔ میں ’پٹ بمقابلہ کروز‘ ویڈیو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ یہ بہت پروفیشنل ہے۔
’اور یہی وجہ ہے کہ میں ڈرا ہوا ہوں۔ میرا مایوسی بھرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہالی وڈ انقلاب/تباہی کے دہانے پر ہے۔
’اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ ’پٹ بمقابلہ کروز‘ ویڈیو غیر متاثر کن فضول ہے تو آپ کو فکر کی ضرورت نہیں لیکن میں ہل چکا ہوں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کلپ کو بنانے کے لیے استعمال ہونے والا اے آئی ویڈیو ٹول SeeDance 2.0 جمعرات (12 فروری) کو لانچ کیا گیا، جسے فوراً ہی موشن پکچر ایسوسی ایشن نے تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے مالک بائٹ ڈانس پر ’امریکی کاپی رائٹ شدہ مواد کے بڑے پیمانے پر غیر مجاز استعمال‘ کا الزام لگایا۔
ایک ترجمان نے کہا ’بغیر کسی خاطر خواہ حفاظتی اقدامات کے ایسی سروس لانچ کرنا، بائیٹ ڈانس کی طرف سے تخلیق کاروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والے قائم شدہ کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی ہے، جو لاکھوں امریکی ملازمتوں کی بنیاد ہیں۔ بائیٹ ڈانس کو فوراً اپنی خلاف ورزی پر مبنی سرگرمی بند کرنی چاہیے۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے اس حوالے سے بائیٹ ڈانس سے رابطہ کیا ہے۔
SeeDance 2.0 کی لانچ کے موقعے پر ایک بلاگ پوسٹ میں بائیٹ ڈانس نے کہا کہ یہ ٹول ’انتہائی حقیقت پسندانہ آڈیو ویژول اثرات پیدا کر سکتا ہے۔‘
پوسٹ میں مزید کہا گیا ’حوالہ جاتی اور ایڈیٹنگ کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر یہ فلم، اشتہارات، ای کامرس اور گیمز جیسے شعبوں میں مواد کی تیاری کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔‘
گذشتہ برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ، تفریحی صنعت میں متعدد شخصیات اور تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گذشتہ سال متعدد ہالی وڈ سٹارز نے اس وقت آواز اٹھائی جب مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ ایک اداکار (جسے ’ٹلی نور وڈ‘ کہا گیا) نے ٹیلنٹ ایجنسیوں کی توجہ حاصل کی۔
دسمبر میں برطانوی اداکاروں کی یونین نے بھاری اکثریت سے اے آئی کے لیے ڈیجیٹل سکیننگ کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جو ممکنہ طور پر صنعتی کارروائی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
صنعت بھر میں تقریباً یکساں احتجاج کے باوجود کچھ سٹوڈیوز فلم اور ٹی وی کی تخلیق میں اے آئی کو شامل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، جن میں ایمزون بھی شامل ہے، جس نے تخلیقی عمل کو سستا اور مؤثر بنانے کے لیے ایک نئی ٹیم قائم کی ہے۔
© The Independent