کبھی رات کا کھانا پکانا سب سے مشکل مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیک اوے کا دور آیا یعنی خاموش اعتراف کہ آپ کو پیاز کاٹنے یا برتن دھونے کی زحمت نہیں کرنی۔
پلاسٹک کے مینو سے آرڈر دینا، چمکتی ہوئی لائٹ والے کاؤنٹر پر کھڑے ہو کر کھانا، وصول کرنا، جلدی میں پریشان والدین کے ہاتھ میں اسے پکڑا دینا اور پھر کاغذ کے ڈبوں میں سے ہی کھا لینا اب معمول بن گیا تھا۔ اس کے بعد ٹیک اوے خود آپ کے دروازے تک آنے لگا ایک ایپ کے ذریعے آڈر دینا، بغیر کسی انسان سے بات کیے۔ اب تو یہ آخری معمولی سی ’زحمت‘ بھی آٹومیٹک بنائی جا رہی ہے۔
رواں ہفتے ’جسٹ ایٹ‘ (Just Eat) نے ایک اے آئی وائس اسسٹنٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو صارفین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے گا کہ انہیں کیا آرڈر کرنا ہے۔ کمپنی نے اسے ’مینو کی پریشانی‘ اور ’زیادہ انتخاب کی الجھن‘ کا حل قرار دیا ہے۔
طریقہ سادہ ہے یعنی ایپ سے بات کریں، اپنی خواہشات بیان کریں چاہے وہ کتنی ہی مبہم کیوں نہ ہوں، اور باقی کام الگورتھم پر چھوڑ دیں۔
جسٹ ایٹ کے مطابق یہی لچک اس نظام کی اصل خوبی ہے۔ صارف ’گریگز کے ساسیج رول‘ کے بالکل درست آرڈر سے لے کر بے ترتیب خیالات تک کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور اسسٹنٹ کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ’درست اور بامعنی جواب‘ دے سکے۔
لیکن عملی طور پر، جب میں نے اسے آزمایا تو یہ ذہن پڑھنے والے اسسٹنٹ کے بجائے زیادہ تر اندازوں پر مبنی سافٹ ویئر لگا۔
جب میں نے کہا کہ ’کچھ صحت مند مگر بھرپور‘ کھانا چاہیے، تو اسسٹنٹ نے مجھے سلاد چینز، جوس بارز اور پروٹین باؤلز کی طرف دھکیل دیا۔
بعد میں جب میں نے کہا کہ بھوک تو ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کیا کھاؤں، تو اس نے انتخاب محدود کرنے کی پیشکش کی یعنی ہلکا کھانا، جیسے سلاد، یا کچھ زیادہ بھرپور، جیسے ویگن برگر؟ میں ویگن (سبزی خور) نہیں ہوں اور اسے یہ جاننے کا کوئی طریقہ بھی نہیں تھا۔ یہاں ’ویگن‘ صحت مند ہونے کا مختصر استعارہ لگ رہا تھا۔ میں نے دوسرا آپشن چنا۔ نتیجہ، تھنڈر برڈ فرائیڈ چکن۔
یہ ایک سطح پر یہ بالکل منطقی ہے۔ فوڈ ڈیلیوری ایپس بے شمار آپشنز سے بھری ہوتی ہیں، جو منگل کی شام ساڑھے سات بجے بھوکے اور تھکے انسان کو سب ایک جیسے لگنے لگتے ہیں۔
جسٹ ایٹ کے مطابق نیا اسسٹنٹ اس شور میں سے راستہ بنانے اور آرڈرنگ کو پہلے سے زیادہ آسان بنانے کے لیے ہے۔ کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرٹ اوزتیکن کہتے ہیں: ’یہ خصوصی طور پر تیار کردہ معاون ہماری سروس کو زیادہ قابل فہم اور قابل رسائی بناتا ہے۔ ہم اے آئی کی طاقت سے روزمرہ سہولت کو فروغ دے رہے ہیں۔‘
لیکن یہ وضاحت کچھ زیادہ ہی سادہ لگتی ہے۔ مسئلہ اصل میں مینو نہیں۔ ’مینو کی پریشانی‘ دراصل ایک بڑے مسئلے کا نرم اور قابل فروخت نام ہے یعنی کھانے کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی۔
ہم پہلے سے زیادہ جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کھانا چاہیے مگر اس پر عمل کرنے میں پہلے سے زیادہ الجھن میں ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈ سے مکمل پرہیز کریں، پھر بتایا جاتا ہے کہ سب ہی خراب نہیں۔
زیادہ پروٹین کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، مگر یہ بحث رہتی ہے کہ وہ اسٹیک سے آئے یا سیٹن سے۔ فائبر اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ بیکڈ آلو یعنی جیکٹ پٹیٹو بھی فیشن بن گئے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس، جو کبھی بدنام تھے، اب خاموشی سے بحال ہو چکے ہیں۔
یہ سب ایسے نظام میں ہو رہا ہے جہاں رفتار، یکسانیت اور سہولت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مہنگائی، لمبے اوقاتِ کار اور بہترین بننے کے جنون کو شامل کریں، تو یہ حیران کن نہیں کہ لوگ اب اپنی جبلت پر اعتماد نہیں کرتے۔ وہ ڈیٹا پر بھروسہ کرتے ہیں۔
اسی الجھن میں الگورتھم کی انٹری ہوتی ہے، جیسے بکھری ہوئی فوڈ کلچر کا ریفری۔ جسٹ ایٹ کا اے آئی اس بات میں توازن پیدا کرتا ہے کہ ہمیں کیا چاہیے، ہمارے لیے کیا ہونا چاہیے اور پلیٹ فارم کیا بیچنا چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود کبھی بھوک، ذائقہ یا خوشبو محسوس نہیں کر سکتا۔
یہ سوچنا عجیب ہے کہ ہم اپنی خواہش ایک ایسی مشین کے حوالے کر دیں جس نے کبھی کچھ چکھا ہی نہیں۔ الٹرا پروسیسڈ فوڈ پکانے کی محنت ختم کرتا ہے، ڈیلیوری ایپس اسے حاصل کرنے کی محنت کم کرتی ہیں اور اب اے آئی اس کے انتخاب کی محنت بھی ختم کر رہا ہے۔ اگر ٹیک اوے پہلے ہی شارٹ کٹ تھا، تو اب شارٹ کٹ کا بھی شارٹ کٹ کیوں؟
یہ کاہیلی پر تنقید نہیں، بلکہ تھکن اور ذہنی دباؤ کی بات ہے۔ کام شام تک پھیل جاتا ہے، صحت کے مشورے متضاد ہیں، فیصلہ کرنے کی تھکن حقیقی ہے اور کھانے کے فیصلے اب جذباتی، اخلاقی اور غذائی بوجھ بن چکے ہیں۔ ایسے میں کنٹرول چھوڑ دینا پُرسکون محسوس ہو سکتا ہے۔
یقیناً، کچھ لوگوں جیسے معذوری، زبان کی رکاوٹ یا ذہنی دباؤ والے افراد کے لیے یہ واقعی مددگار ہو سکتا ہے۔ جسٹ ایٹ بھی کہتا ہے کہ یہ نظام شمولیت اور رسائی کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔
لیکن انتخاب میں مدد اور یہ باور کرانے میں فرق ہے کہ انتخاب خود مسئلہ ہے۔ الگورتھم صرف ترجیحات کی عکاسی نہیں کرتے، انہیں تشکیل بھی دیتے ہیں۔ وہ عام طور پر چین ریستورانوں، مانوس کھانوں اور پلیٹ فارم کے لیے منافع بخش آپشنز کو ترجیح دیتے ہیں۔ الٹرا پروسیسڈ فوڈ اس ماحول کے لیے بالکل موزوں ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جسٹ ایٹ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اے آئی آپ کو صحت مند کھانا دے گا، صرف یہ کہ وہ انتخاب کو تیز اور آسان بنا دے گا۔ مگر جبلت تجربے سے بنتی ہے، پکانے، چکھنے، غلطی کرنے سے۔ جب یہ عمل ڈیٹا سے بدل جائے، تو جبلت عادت بن جاتی ہے، بس بہتر نام کے ساتھ۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟ کیا ہم مستقبل میں الگورتھم سوملیئر، میز پر خودکار تجاویز، یا سِری (ایپل اسسٹنٹ) کے مشوروں پر انحصار کریں گے؟
جسٹ ایٹ اسے سہولت کا اگلا مرحلہ قرار دیتا ہے۔ شاید ایسا ہی ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمارا فیصلہ کرنے کا اختیار آہستہ آہستہ کسی مشین کو منتقل ہو رہا ہے۔ یہ آواز ہمیں بتاتی ہے کہ کیا کھائیں، مگر اس کے پاس نہ منہ ہے، نہ بھوک محسوس کرنے کا طریقہ، نہ ذائقے کا تجربہ — اس کے پاس صرف ہمارے اور دوسروں کے پچھلے فیصلوں کا ریکارڈ ہے۔
مینو کی پریشانی ایک پردہ ہے۔ اس کے پیچھے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اب ایک بنیادی انسانی سوال کا جواب بھی ٹیکنالوجی کے بغیر دینے پر اعتماد نہیں رکھتے۔
اگرچہ اے آئی وقتی طور پر کھانے کے آڈر کو آسان بنا سکتا ہے، مگر یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم اس سہولت کے بدلے کیا کھو رہے ہیں۔ سہولت کا مقصد وقت بچانا تھا، ہمیں انتخاب کے عمل سے مکمل طور پر الگ کرنا نہیں۔
