انڈیا کے ایک طالب علم کو امریکی یونیورسٹی سے دو لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم بطور ہرجانہ ملی ہے، کیوں کہ ان کے ڈبے میں بند کھانے کی بو کی شکایت نے شہری حقوق کے مقدمے کی شکل اختیار کر لی تھی اور ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہو گیا۔
یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر سے انتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والے آدتیہ پرکاش کو دو سال کی طویل جدوجہد کے بعد یہ رقم ملی۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب عملے کے ایک رکن نے انہیں ڈپارٹمنٹ کا مائیکرو ویو استعمال کرنے سے منع کیا کیوں کہ ان کے انڈین کھانے سے ’تیز بو‘ آ رہی تھی۔ یونیورسٹی نے مقدمے کے تصفیے کے حصے کے طور پر کسی بھی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔
یہ پانچ ستمبر 2023 کی بات ہے جب آدتیہ پرکاش یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر میں کلچرل انتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی کے پہلے سال میں تھے اور ڈپارٹمنٹ کے کچن میں گھر سے لایا ہوا پالک پنیر گرم کر رہے تھے۔
یونیورسٹی کے خلاف دائر کردہ وفاقی شہری حقوق کے مقدمے کے مطابق، عملے کے ایک رکن کمرے میں داخل ہوئے اور فوراً تبصرہ کیا کہ اس میں سے ’تیز بو‘ آ رہی ہے اور پرکاش کو بتایا کہ ’شدید بو‘ والا کھانا مائیکرو ویو میں گرم کرنے کے خلاف اصول موجود ہے۔
پرکاش نے جواب دیا کہ یہ صرف کھانا ہے اور ’اجنبیت اور دکھ‘ محسوس کرتے ہوئے اپنی میز پر واپس آ گئے۔
جسے وہ نسلی امتیاز سمجھ رہے تھے، جلد ہی وہ ایک ادارہ جاتی تنازع بن گیا۔ چند مہینوں میں وہ اور ان کی ساتھی ارمی بھٹاچاریہ، جنہوں نے اسی ڈپارٹمنٹ میں پی ایچ ڈی طالبہ اور ٹیچنگ اسسٹنٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی، اپنے پی ایچ ڈی سپروائزرز اور فنڈنگ سے محروم ہو گئے، جس سے ان کا کام رک گیا۔
ستمبر 2025 میں مذکورہ طلبہ نے امتیازی سلوک اور انتقامی کارروائی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا۔ یونیورسٹی نے چار ماہ بعد کسی ذمہ داری کو تسلیم کیے بغیر دو لاکھ ڈالر دے کر معاملہ طے کر لیا۔ یونیورسٹی نے انہیں ماسٹرز کی ڈگریاں تو دے دیں لیکن مستقبل میں داخلے یا ملازمت پر پابندی لگا دی۔
اس ماہ پرکاش اور بھٹاچاریہ نے امریکہ چھوڑ دیا، اور ان کی کہانی انڈیا کی آن لائن برادریوں میں کافی زیرِ بحث ہے۔
پرکاش کا کہنا ہے کہ عملے کے رکن کے تبصرے نے گذشتہ تجربات کی یاد تازہ کر دی۔ انہوں نے بتایا، ’میں نے بچپن سے یہ سب دیکھا ہے، میں جانتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔‘ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے بچپن کا کچھ حصہ یورپ میں گذرا جہاں ان کے گھر کے بنے انڈین کھانے کی بو اکثر مذاق اور اجنبیت کا باعث بنتی تھی۔
’یہ صرف ایک دن کے لنچ کی بات نہیں تھی، بلکہ یہ اس بارے میں تھا کہ کیا مجھے اپنا کھانا اور کھانے کی جگہ تبدیل کرنی پڑے گی۔‘
معاملے کو طے کرنے کے لیے پرکاش نے اس رکن سے بات کی اور بتایا کہ ان کے تبصرے سے انہیں تکلیف پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ذاتی پسند ناپسند کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک ایسی جگہ جہاں سب آ جا سکتے ہیں، وہاں صرف انڈین کھانے کو نشانہ بنایا گیا۔
اس فیکلٹی رکن نے ایک اور انتظامی افسر کو بلا لیا، جنہوں نے پرکاش کو بتایا کہ وہ دفتر کو ’مہکتا ہوا‘ رکھنا چاہتی ہیں اور پھر پرکاش کے سامنے کچرے کا ایک بیگ پھینک دیا جس میں صرف ان کا پالک پنیر والا خالی ڈبہ تھا۔
جب پرکاش نے پوچھا کہ کون سا کھانا ان کے نزدیک قابل قبول ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’سینڈوچ‘ ٹھیک ہے جب کہ ’کری‘ نہیں۔
Shocking! Two Indian PhD students Aditya Prakash and Urmi Bhattacharyya filed a civil suit against the University of Colorado Boulder when Aditya was told not to not use the microwave to heat food (palak paneer) with pungent smell. When he refused, the university escalated the…
— Sahana Singh (@singhsahana) January 14, 2026
انہوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں جسے کری سمجھا جاتا ہے وہ ان کا مکمل کھانا ہے اور سوال کیا کہ اگر معیار بو ہی ہے، تو گذشتہ سال ان کی لائی ہوئی بیف چلی کے ساتھ ویسا سلوک کیوں نہیں کیا گیا؟
مقدمے کے مطابق، انتظامی افسر نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا۔
دو دن بعد پرکاش انتھروپولوجی کے چار دیگر طلبہ کے ساتھ کچن میں انڈین کھانا گرم کرنے آئے، جن میں بھٹاچاریہ بھی شامل تھیں۔ انہوں نے اسے ’یکجہتی کا اظہار‘ قرار دیا۔
پرکاش کا دعویٰ ہے کہ جب وہ کھانا گرم کر رہے تھے تو عملے کے ایک اور رکن نے ان پر آوازے کسے اور کچن کا دروازہ بند کر دیا، جسے انہوں نے نفرت کا اظہار سمجھا۔
مقدمے کے مطابق، اس وقت کچن کے استعمال سے روکنے کی کوئی باقاعدہ پالیسی نہیں تھی۔
بعد میں کی جانے والی خط و کتابت میں ڈپارٹمنٹ نے بھٹاچاریہ اور دیگر طلبہ پر ’ہنگامہ آرائی‘ کا الزام لگایا اور معاملہ سٹوڈنٹ کنڈکٹ آفس کو بھیج دیا، تاہم کوئی باقاعدہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
بھٹاچاریہ نے بطور ٹیچنگ اسسٹنٹ اپنے ساتھی کو ثقافتی تعصب کے موضوع پر ایک کلاس میں بات کرنے کی دعوت دی۔
جنوبی ایشیائی باشندے طویل عرصے سے یہ کہتے آئے ہیں کہ ان کے کھانے کی ’بو‘ کو مغرب میں انہیں الگ تھلگ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس امتیازی سلوک کو اکثر صفائی، آرام یا مشترکہ اصولوں کا نام دیا جاتا ہے۔
پرکاش نے کلاس میں اپنے تجربات کے بارے میں بات کی اور مائیکرو ویو والے واقعے کو انتھروپولوجی کے تصورات سے جوڑا، لیکن کسی عملے کے رکن کا نام نہیں لیا۔
کچھ دن بعد بھٹاچاریہ کو پتہ چلا کہ انہیں ٹیچنگ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں کلاس کی تفصیلات دیکھنے کے لیے لیپ ٹاپ پر گئی تو مجھے وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ کوئی وارننگ نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی بات کی گئی۔‘
یہ اس وقت ہوا جب ڈپارٹمنٹ نے ایک ای میل بھیجی جس میں مائیکرو ویو کے استعمال پر دوبارہ پابندیاں لگا دی گئیں اور ’تیز یا دیرپا بو‘ والے کھانے بنانے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
پرکاش اور بھٹاچاریہ نے پورے ڈپارٹمنٹ کو جواب دیا کہ یہ پالیسی امتیازی سلوک ہے۔ بھٹاچاریہ نے یہ بھی کہا کہ جب تک ان کے تحفظات دور نہیں ہوتے، وہ کلاس نہیں لیں گی۔
جوڑے کا دعویٰ ہے کہ اس مقام سے معاملے کو نسلی امتیاز کی بجائے رویے اور پیشہ ورانہ مہارت کے سوال کے طور پر لیا جانے لگا۔
پرکاش کو سینیئر فیکلٹی کے ساتھ اجلاسوں میں بلایا گیا اور بتایا گیا کہ عملہ ان سے خطرہ محسوس کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا، ’فیکلٹی نے مجھے بتایا کہ عملے نے مجھے جسمانی خطرہ قرار دیا ہے۔ مجھے کہا گیا کہ اگر میں اس علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہوں تو میرا ایک مشیر میرے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ ناقابل قبول تھا۔‘
خط و کتابت کے مطابق، یونیورسٹی کے ایک عہدےدار نے بعد میں دونوں طلبہ کے معاملے میں ’تکلیف، امتیازی سلوک اور نسل پرستی‘ کا اعتراف کیا۔
جنوری 2024 میں دونوں طلبہ کی پی ایچ ڈی ایڈوائزری کمیٹیوں نے بغیر کسی اطلاع کے استعفیٰ دے دیا اور ڈپارٹمنٹ نے انہیں ان کے شعبہ تحقیق سے باہر کے مشیروں کے حوالے کر دیا، جس سے ان کا کام رک گیا۔
یونیورسٹی نے انہیں ٹیچنگ اور فنڈنگ کے لیے نااہل قرار دے دیا، جس سے ان کا ویزا خطرے میں پڑ گیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں نے ان کے تعلیمی اور مالی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جو تعلیم جاری رکھنے کے لیے ضروری تھے۔
یونیورسٹی کی ترجمان ڈیبرا مینڈیز ولسن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’قومیت، مذہب اور ثقافت سے قطع نظر تمام طلبہ اور عملے کے لیے ایک جامع ماحول‘ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب 2023 میں یہ الزامات سامنے آئے تو ہم نے انہیں سنجیدگی سے لیا اور طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا۔ ہم نے ستمبر میں طلبہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اس کیس میں کسی بھی ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں۔‘
پرکاش اور بھٹاچاریہ کے لیے یہ تصفیہ قانونی طور پر تو ختم ہو گیا لیکن اس کے اثرات موجود ہیں۔
کئی سال کا تعلیمی کام نامکمل رہ گیا اور پیشہ ورانہ منصوبے رک گئے۔ بھٹاچاریہ نے کہا کہ طویل تناؤ کی وجہ سے ان کی بیماری کی تکلیف میں اضافہ ہوا۔
پرکاش کا کہنا ہے کہ وہ اسے صرف انفرادی بدقسمتی کے طور پر نہیں دیکھتے۔ انہوں نے کہا، ’یہ وہ بوجھ ہے جو ہم بطور قوم ایک طویل عرصے سے اٹھا رہے ہیں۔ اگر ہمیں اسی راستے پر چلنا ہے تو ٹھیک ہے، ہماری قوم ایک بہتر دن ضرور دیکھے گی۔‘
© The Independent