پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں علاقائی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
Prime Minister of Pakistan Meets Crown Prince Mohammed bin Salman in Jeddah
— Mosharraf Zaidi (@mosharrafzaidi) March 12, 2026
Prime Minister's Office
Media Wing
JEDDAH: 12 MARCH 2026
The Prime Minister of Pakistan held a restricted meeting with His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Al Saud, Crown Prince…
پوسٹ کے مطابق شہباز شریف نے ولی عہد کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں مزید کہا گیا وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا چند گھنٹوں پر مشتمل مختصر دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعے کی شب واپس وطن پہنچ گئے۔
اس سے قبل جمعرات کو جدہ پہنچنے پر بین الاقوامی ایئرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبد العزیز، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے ایکس پر بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور اس دوران سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
*_وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے_*
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 12, 2026
وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کے… pic.twitter.com/uINTsNesL3
اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نے آج ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کا دورہ سعودی عرب علاقائی امن و استحکام پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا حصہ ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے بعد ایران بھی جائیں گے تو ترجمان نے اس کا جواب نفی میں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں وزیر اعظم کا 11 مارچ کو ایرانی صدر سے بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
ترجمان نے وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب سے متعلق کہا کہ ’دورے کے بعد ہم ایک پریس بیان جاری کریں گے جس میں دونوں جانب سے زیرِ بحث آنے والے تمام امور شامل ہوں گے۔‘
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال پر کہ ’بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار تہران اور ریاض کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے پیغامات بھیجنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
’کیا پاکستان نے تہران اور کسی اور ملک کے درمیان بھی اسی طرح کا کردار ادا کیا ہے؟‘
ترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیا ’جہاں تک ایران، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ ممکنہ رابطوں کا تعلق ہے، تو جی ہاں، ہمارے درمیان کھلے رابطے موجود ہیں۔ ہمارے نائب وزیراعظم نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے تین مرتبہ گفتگو کی ہے۔‘
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے مسلسل جاری ہیں، جن کے جواب میں ایران پڑوسی خلیجی ممالک میں مختلف اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران نے سعودی عرب کے اندر بھی مختلف مقامات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔
اس پر پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان ’چاہے کچھ بھی ہو‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد جب بھی ضرورت پڑے گی ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔
گذشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے سے دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی ہے۔
مشرف زیدی نے کہا ’اس میں کوئی سوال نہیں کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے لیے آئیں گے، چاہے کچھ بھی ہو اور جب بھی ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے سے پہلے بھی دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے اصول پر کام کیا ہے۔