پاکستانی وزیراعظم خطے میں کشیدگی پر گفتگو کے لیے سعودی عرب روانہ

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر شہباز شریف یہ دورہ کر رہے ہیں اور اس سے سفارتی میدان میں پاکستان مثبت کردار واضح ہو رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب گئے ہیں۔

بیان کے مطابق اس چند گھنٹوں کے دورے کے دوران وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی سکیورٹی کی صورت حال اور دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس دورے سے پاکستان کا سفارتی میدان میں مثبت کردار واضح ہو رہا ہے اور پاکستان یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے آج ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کا دورہ سعودی عرب علاقائی امن و استحکام پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا حصہ ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے بعد ایران بھی جائیں گے تو ترجمان نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں وزیر اعظم کا 11 مارچ کو ایرانی صدر سے بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

ترجمان نے وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب سے متعلق کہا کہ ’دورے کے بعد ہم ایک پریس بیان جاری کریں گے جس میں دونوں جانب سے زیرِ بحث آنے والے تمام امور شامل ہوں گے۔‘

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال پر ’کہ بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار تہران اور ریاض کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے پیغامات بھیجنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا پاکستان نے تہران اور کسی اور ملک کے درمیان بھی اسی طرح کا کردار ادا کیا ہے؟‘ رجمان دفتر خارجہ نے جواب دیا: ’جہاں تک ایران، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ ممکنہ رابطوں کا تعلق ہے، تو جی ہاں، ہمارے درمیان کھلے رابطے موجود ہیں۔ ہمارے نائب وزیراعظم نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے تین مرتبہ گفتگو کی ہے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے مسلسل جاری ہیں، جن کے جواب میں ایران پڑوسی خلیجی ممالک میں مختلف اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران نے سعودی عرب کے اندر بھی مختلف مقامات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔

اس پر پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان ’چاہے کچھ بھی ہو‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد جب بھی ضرورت پڑے گی ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔

گذشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے سے دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی ہے۔  

مشرف زیدی نے کہا: ’اس میں کوئی سوال نہیں کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے لیے آئیں گے، چاہے کچھ بھی ہو اور جب بھی ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے سے پہلے بھی دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے اصول پر کام کیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان