سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ہفتے کو خطے کی حالیہ صورت حال کے تناظر میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران دانش مندی سے کام لے کر کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کیا، جو ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ریاض میں موجود ہیں۔
ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں سعودی وزیر دفاع نے لکھا کہ پاکستانی آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں ’دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک دفاعی تعاون کے معاہدے کے دائرہ کار میں مملکت پر ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں اور ان سے نمٹنے کے ممکنہ طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘
سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کے مطابق: ’ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور استحکام کو کمزور کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایران دانش مندی سے کام لے گا اور کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔‘
Met with Pakistan’s Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces, Field Marshal Asim Munir. We discussed Iranian attacks on the Kingdom and the measures needed to halt them within the framework of our Joint Strategic Defense Agreement. We stressed that such actions undermine… pic.twitter.com/OuELnf9LU6
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) March 7, 2026
پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک تاریخی ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے اور تہران کے اسرائیلی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر جوابی حملوں کا آج آٹھواں روز ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے اور اس جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تقریباً 50 دوسرے سینیئر سول اور فوجی عہدیداروں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جان سے چلے گئے تھے۔
امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
یہ جنگ ہر روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر مزید 14 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہفتے کی صبح بھی سعودی عرب کو ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں دارالحکومت ریاض کے اطراف کے علاقے اور ایک بڑے تیل کے میدان کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ مملکت کی جانب آنے والے اب تک کے تمام ڈرونز کو روک لیا گیا ہے۔
پاکستان نے متعدد بار سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے تین مارچ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ موجود ہے اور اس حوالے سے (پاکستان نے) ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی یاد دہانی کروا دی تھی۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ کہ ان کی انہی کوششوں کی وجہ سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف کم ترین ردعمل سامنے آ یا ہے، جبکہ دوسرے خلیجی ممالک پر کارروائیاں زیادہ ہوئی ہیں۔