انڈین وزارت خارجہ نے ہفتے کو آبنائے ہرمز میں انڈین پرچم بردار دو بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات ایران کے سفیر محمد فتح علی کو طلب کیا۔
سمندری تجارت پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے ’یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز‘ (یو کے ایم ٹی او) نے ہفتے کو بتایا تھا کہ عمان کے شمال مشرق ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
ادارے کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی کہ مبینہ طور پر ایران کی پاسداران انقلاب فورس سے منسلک دو گن بوٹس نے بغیر کسی وارننگ کے ان کے ٹینکر پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ عمان سے تقریباً 20 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔
اسی سمندری علاقے میں ایک علیحدہ واقعے میں ایک کنٹینر جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جو عمان سے تقریباً 25 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔
Our statement regarding Iran
https://t.co/05hycXPgJ6 pic.twitter.com/HwhqdNL9M8
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) April 18, 2026
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے ایرانی سفیر سے ملاقات میں کہا کہ انڈیا کے لیے تجارتی جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی نہایت اہم ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی کہ ایران ماضی میں انڈیا جانے والے کئی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بناتا رہا ہے۔
انہوں نے اس ’سنگین واقعے‘ پر اپنی تشویش دہراتے ہوئے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ وہ انڈیا کے مؤقف سے ایرانی حکام کو آگاہ کریں اور جلد از جلد انڈیا جانے والے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
بیان کے مطابق ایرانی سفیر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ انڈیا کے مؤقف کو اپنی حکومت تک پہنچائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث اس تنگ بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی اور عالمی تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایران نے ایک روز قبل جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکی صدر نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا تاہم ایران نے ہفتے کو اس آبنائے کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نظام دوبارہ سخت فوجی کنٹرول میں آ گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ترجمان نے اس اقدام کی وجہ ’امریکہ کی بار بار خلاف ورزیوں اور ناکہ بندی کے نام پر سمندری ڈاکہ زنی‘ کو قرار دیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ترجمان نے کہا ’ایران نے معاہدوں کے تحت محدود تعداد میں جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔
’لیکن امریکہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، لہٰذا اب آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے اور گزرنے کے لیے ایران کی اجازت درکار ہوگی۔‘
