فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل، مسائل کے پرامن حل پر زور: پاکستان فوج

پاکستان فوج کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے دورے کے دوران مکالمے، کشیدگی میں کمی اور حل طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر ملاقات کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)

پاکستان فوج نے ہفتے کو ایک بیان میں بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے دورے کے دوران مکالمے، کشیدگی میں کمی اور حل طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا  ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفد کے ہمراہ ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا۔

بیان کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس موقعے پر بات چیت کا محور خطے میں پائیدار امن کا قیام تھا، جس میں خاص طور پر خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال، جاری سفارتی روابط اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا گیا۔

ملاقاتوں میں فیلڈ مارشل نے مسلسل سفارتی روابط کے ذریعے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور حل طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

تہران میں پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورت حال، دوطرفہ دفاعی تعاون اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے صدر، وزیر اعظم اور پاکستانی عوام کی جانب سے ایرانی قیادت کو نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر بدھ کو ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ایرانی دارالحکومت تہران پہنچے تھے، جس کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کروانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا تھا۔

پاکستان نے اس ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی، جو 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اعلیٰ سطح کا رابطہ تھا۔

یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ تاہم دونوں فریقوں نے سفارتی رابطوں کے جاری رہنے کا عندیہ دیا۔

پاکستان فضائیہ نے اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مرحلے کے بے نتیجہ مذاکرات کے بعد ایرانی مذاکرات کاروں کو ان کے ملک واپس پہنچانے میں بھی معاونت کی تھی تاکہ وفد کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد طے پانے والی جنگ بندی 21 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے۔

اگرچہ یہ جنگ بندی بظاہر برقرار ہے، تاہم اسے مسلسل غیر مستحکم اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

فیلڈ مارشل کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف بھی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں میں شریک ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ کیا۔

ہفتے کو وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اپنے دوروں میں شہباز شریف نے ان برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم نے ترکی میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کی اور دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وہ اپنا سہ ملکی دورہ مکمل کر کے ہفتے کو پاکستان روانہ ہو گئے۔

پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور وزیر اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی شامل تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان