|
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کا سیز فائر جاری۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔ لبنان اور اسرائیل بھی 10 روزہ جنگ بندی پر متفق۔ ایران کا جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کا اعلان لائیو اپ ڈیٹس |
یران سے بدھ تک معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں: ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ ایران کے ساتھ سیز فائر ختم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ایئر فورس ون میں فینکس سے واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’شاید میں اسے توسیع نہ دوں، لیکن (ایرانی بندرگاہوں پر) ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ اس لیے ناکہ بندی تو ہوگی اور بدقسمتی سے ہمیں دوبارہ بمباری شروع کرنا پڑ سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ’کافی اچھی خبر‘ آئی ہے لیکن انہوں نے اس کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں 20 منٹ پہلے کچھ کافی اچھی خبر ملی تھی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ معاملات بہت اچھے جا رہے ہیں۔‘ (روئٹرز)
ایران نے ہرمز دوبارہ بند کرنے کی دھمکی دے دی
لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھولے جانے کے چند گھنٹے بعد تہران نے ہفتے کو دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ آبنائے ہرمز کو بار پھر بند کر دے گا۔
آبی راستے کی بحالی سے جمعے کو سٹاک مارکیٹس میں تیزی آئی اور واشنگٹن کی جانب سے امید پیدا ہوئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے ایف پی کو بتایا کہ امن معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور یہ کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ تھی۔
ٹرمپ نے فینکس، ایریزونا میں قدامت پسند ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے تحریک کے ایک اجتماع کو بتایا ’ہم بہت سی کھدائی کرنے والی مشینوں کے ساتھ ایران جا کر اسے حاصل کرنے والے ہیں۔‘
تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہیں نہیں جا رہا۔
ایران نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر امریکی جنگی بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے جانے والے بحری جہازوں کو روکا تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا ’ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلا نہیں رہے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت درکار ہو گی۔
۱- رئیس جمهور آمریکا در یک ساعت هفت ادعا مطرح کرد که هر هفت ادعا کذب است.
۲- با این دروغگوییها در جنگ پیروز نشدند و حتما در مذاکره هم راه به جایی نخواهند برد.
۳- با ادامهٔ محاصره، تنگهٔ هرمز باز نخواهد ماند.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 17, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، جو سارے جھوٹے تھے۔
انہوں نے کہا ان جھوٹوں سے جنگ نہیں جیتی اور یقینی طور پر مذاکرات میں بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلا نہیں رہے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ’آبنائے ہرمز کا کھلنا اور بند ہونا انٹرنیٹ پر نہیں ہوتا، اس کا فیصلہ میدان میں کیا جاتا ہے اور ہماری مسلح افواج یقینی طور پر جانتی ہیں کہ دوسرے فریق کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں کیسا برتاؤ کرنا ہے۔‘
’جسے وہ بحری ناکہ بندی کہتے ہیں ایران کی جانب سے یقینی طور پر اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور ایران یقینی طور پر ضروری اقدامات کرے گا۔‘ (اے ایف پی)
چینی صدر آبنائے ہرمز کھلنے سے خوش: امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا ہے کہ ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ ’بہت خوش ہیں کہ آبنائے ہرمز کھل گیا ہے یا تیزی سے دوبارہ کھل رہا ہے۔‘
ٹرمپ نے اپنے آئندہ چین کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شی جن پنگ سے ان کی ملاقات ’خصوصی اور ممکنہ طور پر تاریخی‘ ہو گی۔