ایک ایسے وقت میں جبکہ لبنانی اور اسرائیلی نمائندے واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کے لیے ملاقات کر رہے تھے، اسرائیل اور حزب اللہ نے منگل کو ایک دوسرے پر حملے کیے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ جھڑپیں اس اعلان کے بعد ہوئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ دونوں فریقوں نے منگل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات سے قبل لڑائی روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے انہیں کہا ہے کہ اسرائیل بیروت میں کوئی فوج نہیں بھیجے گا، جبکہ جو فوجی دستے پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے واشنگٹن میں واقع لبنانی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر اس کا اطلاق صرف بیروت پر اسرائیلی حملوں اور اسرائیلی علاقے پر حزب اللہ کے حملوں تک محدود ہوگا، جس کے بعد اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔
اسرائیل، حزب اللہ کے خلاف اس وقت سے برسرِ پیکار ہے جب اس نے 2 مارچ کو ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملہ کرکے لبنان کو وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل کر دیا تھا۔
کسی بھی فریق نے ٹرمپ کے مجوزہ معاہدے کو عوامی طور پر قبول نہیں کیا۔ حزب اللہ کے سینیئر عہدیدار محمود قماطی نے اے ایف پی کو تحریری بیان میں کہا تھا کہ گروپ ’جزوی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے منگل کو جنوبی لبنان میں تقریباً 30 مقامات پر اسرائیلی حملے رپورٹ کیے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان کے ان علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جن پر اسرائیل قابض ہے، تاہم اس نے اسرائیلی سرزمین پر کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے لبنان سے داغے گئے دو گولوں کو فضا میں تباہ کر دیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ لڑائی ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیلی اور لبنانی سفارت کار موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد چوتھے دور کے براہِ راست مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں موجود تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے ایکس پر کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز کے اختتام کے بعد ’سیاسی اور سکیورٹی شعبوں میں پیش رفت جاری ہے۔‘
مذاکرات کا ایک اور دور بدھ کو متوقع ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے ان مذاکرات کو، جن کی حزب اللہ سخت مخالفت کر رہی ہے، ’لبنان کے لیے سب سے کم قیمت والا انتخاب‘ قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اجلاس میں کہا: ’اسرائیل اور لبنان کل ہی امن معاہدہ کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کا لبنان میں کوئی علاقائی دعویٰ نہیں ہے۔ حزب اللہ ہی رکاوٹ ہے۔‘
مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ یہ مذاکرات ایران کے ساتھ ہونے والی ان بات چیت سے الگ رہیں، جن کا مقصد 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران کے خلاف شروع کی گئی وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔
تہران نے بارہا دونوں تنازعات کو ایک دوسرے سے جوڑا ہے اور پیر کو کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کی وسیع ہوتی فوجی مہم 8 اپریل سے نافذ امریکہ-ایران جنگ بندی کو ختم کر سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں لڑائی اور بمباری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج نے دو دہائیوں میں لبنان کے اندر اپنی سب سے بڑی زمینی پیش قدمی کی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے، حزب اللہ کی جانب سے ’بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، بیروت کے جنوبی مضافات پر حملوں کا حکم دیا۔
اگرچہ دونوں کے مابین 17 اپریل سے باضابطہ جنگ بندی نافذ ہے، لیکن دونوں فریقوں نے اس کی کبھی مکمل پاسداری نہیں کی۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیل نے واشنگٹن کی حمایت سے ’ایک نیا فارمولہ‘ طے کیا ہے، جس کے تحت اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملے جاری رکھتی ہے تو بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 3,465 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
اسی مدت کے دوران کم از کم 26 اسرائیلی فوجی اور ایک سویلین کنٹریکٹر بھی مارا گیا۔
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پیر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر رہا ہے۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت ’مسلسل‘ جاری ہے۔