لبنان میں قَلعہ شُقیف پر ایک بار پھر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کے 26 برس سے زیادہ عرصے بعد اسرائیلی فوج نے دوبارہ لبنان پر حملہ کر کے وہاں کی ایک نہایت علامتی اور تاریخی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے۔
لیکن شُقیف کا قَلعہ کیا ہے؟ اور یہ قَلعہ آج بھی اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے؟
شُقیف کا قَلعہ، جسے بیوفورٹ قَلعہ بھی کہا جاتا ہے، جنوبی لبنان میں نَبَطِيِّه کے قریب ایک پتھریلی پہاڑی چوٹی پر واقع ہے جو دریائے لي طاني کے سامنے ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 700 میٹر بلند ہے، جس کی وجہ سے یہاں سے جنوبی لبنان، شمالی فلسطین کے علاقے الجلیل ال اعلا اور خطے کے اہم راستوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
اسی لیے شُقیف محض ایک قَلعہ نہیں تھا، یہ ایک نگرانی کی چوکی تھا۔ ایک فوجی مقام تھا اور بہت سے فلسطینیوں اور لبنانیوں کے لیے مزاحمت کی علامت تھا۔
اس کی تاریخ تقریباً 900 سال پرانی ہے۔ صلیبی جنگجوؤں نے 12ویں صدی میں، تقریباً 1139 میں، اس مقام پر قبضے کے بعد یہ قَلعہ تعمیر کیا۔ بعد ازاں 1190 میں مسلم رہنما صلاح الدین ایوبی نے اسے فتح کر لیا۔
چند دہائیوں بعد صلیبیوں نے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا، لیکن بالآخر 1268 میں مملوک سلطان الظاہر بیبرس نے اسے دوبارہ مسلم اقتدار میں شامل کر لیا۔ یوں شُقیف ہمیشہ سے وہ مقام رہا ہے جہاں سلطنتیں، افواج اور مزاحمتی تحریکیں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہی ہیں۔
تاہم اس کی جدید علامتی حیثیت 1980 کی دہائی سے جڑی ہوئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1982 میں، اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون کے دور میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے دوران، شُقیف جنگ کے اولین بڑے معرکوں میں سے ایک بن گیا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے تقریباً 27 فلسطینی فائٹر اپنے لبنانی اتحادیوں کے ساتھ قَلعے اور اس کے اطراف میں موجود تھے جب اسرائیلی افواج نے پیش قدمی کی۔
فلسطینی بیانیہ بتاتا ہے کہ 27 فائٹرز کے ایک چھوٹے سے گروہ نے تقریباً 60 گھنٹے تک ایک بہت بڑی اسرائیلی فوج کے 1200 سے زائد اہلکاروں کا مقابلہ کیا۔ بالآخر قَلعے پر قبضہ ہو گیا اور اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی طویل فوجی موجودگی کے دوران اس پر یہ قبضہ برقرار رکھا۔
اسرائیل کے لیے شُقیف ایک اہم فوجی بلندی تھی۔ فلسطینیوں اور لبنانیوں کے لیے یہ مزاحمت کی ایک یاد بن گیا اور کئی برس تک یہ اسرائیلی قبضے میں رہا۔
مئی 2000 میں لبنان کی مزاحمتی کارروائیوں میں اضافے کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان سے انخلا کر لیا۔ اسی لیے آج شُقیف پر دوبارہ قبضہ صرف ایک قدیم قَلعے کا معاملہ نہیں۔ یہ تاریخ کے ایک باب کو دوبارہ کھولنے کے مترادف ہے۔
یہ لبنانی سرزمین کا ایک ایسا مقام ہے جو تاریخ، یادوں اور علامتی اہمیت سے بھرپور ہے۔