افغانستان کے وزیرِ زراعت، آب پاشی و لائیو سٹاک مولوی عطا اللہ عمری گذشتہ ہفتے انڈیا کے سرکاری دورے پر گئے تو وہاں انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بالکل بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں۔ یہ ہمارا اپنا ہی ملک ہے اورہمارا ڈی این اے ایک ہی ہے۔‘
کیا واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ افغان وزیر کہہ رہے کہ افغانوں اور انڈینز کا ڈی این اے ایک ہی ہے یا پھر یہ ایک سیاسی بیان ہے؟
ڈی این اے کیا ہوتا ہے اور اس حوالے سے جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟ کیا افغانوں اور ہندوستانیوں کے آباؤ اجداد ایک ہی جینیاتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ہم سائنسی حوالوں سے جائزہ لیتے ہیں تو یہ نتایج خاصے دلچسپ نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس بیان پر خاصی گفتگو ہوئی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بیان کو کسی جینیاتی بحث کی بجائے سفارتی اور سیاسی بحث کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس سوال کا جواب تہذیبی حوالوں سے مختلف ہے اور جینیاتی حوالوں سے الگ۔
تہذیبی اور سیاسی طور پر افغانستان اور ہندوستان صدیوں اور ہزاریوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی طرف زیادہ تر نقل مکانی مغربی دروں سے ہوئی ہے جو افغانستان سے منسلک ہیں۔
Taliban Agriculture Minister on India:
— Shashank Mattoo (@MattooShashank) July 10, 2026
It feels as if I am among my own people. It feels like our own country. The people of India and Afghanistan have one DNA. pic.twitter.com/X3FU1LliJz
ڈی این اے کی بنیاد پر دنیا کے بڑے نسلی گروہ کون سے ہیں؟
ڈی این اے Deoxyribonucleic Acid کا مخفف ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی مادہ ہے جو تمام جان داروں میں موجود ہوتا ہے۔ اس کوڈ میں موروثی معلومات محفوظ ہوتی ہیں جو والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہیں۔ انسانی جینوم میں تقریباً تین ارب جینیاتی حروف موجود ہوتے ہیں لیکن حیران کن طور پر دنیا کے تمام انسانوں کا 99.9 فیصد ڈی این اے ایک جیسا ہوتا ہے۔ اس میں سے صرف 0.1 فیصد تناسب اسے انفرادیت عطا کرتا ہے جس کی بنیاد پر نسلی گروہوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ماہرِ جینیات ڈیوڈ رائچ اپنی کتاب Who We Are and How We Got Here میں لکھتے ہیں کہ ’تقریباً تمام انسانی آبادیاں مختلف ادوار میں ہونے والی ہجرتوں اور باہمی اختلاط کا نتیجہ ہیں۔‘ اسی لیے سائنس دان آج کل نسل کی بجائے جینیاتی حسب نسب کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں دنیا کے بڑے نسلی گروہوں میں افریقی، یورپی، مشرقی و جنوبی ایشیائی، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ، امریکہ کے مقامی اور اوقیانوسی باشندے شامل ہیں۔
جنوبی ایشیا: دنیا کی جینیاتی تجربہ گاہ
جنوبی ایشیا کو دنیا کے ان خطوں میں شمار کیا جاتا ہے جو جینیاتی حوالے سے سب سے زیادہ تنوع رکھتے ہیں۔ افغانستان، شمال سے آنے والے پناہ گزینوں اور حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آریاؤں کی نقل مکانی ہو، ہخا منشی اور کشانوں کے شاہی ادوار ہوں یا سکندر اعظم کی مہم جوئی، غزنوی اور غوری، تیموری اور مغل، ان سب کے اثرات آج کے ہندوستانی جینیاتی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ بدھ مت کی ترویج کے دنوں میں ہندوستان اور جنوبی ایشیا سے بھی بڑی تعداد میں لوگ قدیم جی ٹی روڈ اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مختلف علاقوں میں آباد ہوتے رہے۔
پاکستان اور انڈیا کی اکثریت جنوبی ایشیائی جینیاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ جس میں پاکستان، انڈیا، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا شامل ہیں۔ ہزاروں سالوں سے جاری نقل مکانی کی وجہ سے جو اختلاط ہوا اس سے ڈی این اے میں بھی تنوع آیا ہے جس سے ایک پیچیدہ مگر مشترک جینیاتی اور تہذیبی ورثہ وجود میں آیا ہے۔
افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ایشیا کا چوراہا بناتی ہے۔ افغانستان کے جینیاتی گروہوں کے مماثلتیں، پاکستان اور انڈیا میں موجود ضرور ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک ہی گروہ ہیں تو یہ ٹھیک نہیں بلکہ افغانستان کے اندر پشتون، تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمان اور دیگر گروہوں کا جینیاتی ڈھانچہ بھی ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہے۔ اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی ملک اور قوم کا ایک ہی ڈی این اے نہیں ہوتا۔ ہر ملک اوراس میں بسنے والے گروہوں میں تنوع موجود ہوتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے قدیم باشندے آخر ہیں کون؟
گذشتہ تین دہائیوں سے یہ سوال مختلف جینیاتی مطالعوں کا سب سے اہم نقطہ رہا ہے کہ جنوبی ایشیا بالخصوص ہندوستان کے قدیم باشندے کون ہیں؟ اس سوال کا جواب ماہرین آثارِ قدیمہ، ماہرین لسانیات اور ماہرینِ بشریات نے اپنے اپنے طور پر دیا ہے۔
ایک عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ آریائی ہندوستان کے قدیم باشندے تھے تاہم جینیاتی مطالعے بتاتے ہیں کہ آریاؤں سے پہلے بھی یہاں انسان آباد تھے۔ جب 65,000 ہزار سال پہلے افریقہ سے ہوموسیپئنز کی آمد ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ یہاں تو پہلے ہی سے ’ہومیننز‘ آباد ہیں۔
2019 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے واگیش ایم نرسمہن نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ 7500 ق م میں موجودہ ایران کے پہاڑی علاقے زاگرس سے لوگ شمالی اور جنوبی ایشیا میں منتقل ہونا شروع ہوئے۔ یہ لوگ زراعت پیشہ تھے ان ہی لوگوں کی آبادیاں پھیل کر وادی سندھ کے ابتدائی شہروں کی شکل اختیار کر گئیں۔
مہر گڑھ اس دور کی اہم ترین نشانی سمجھی جاتی ہے پھر موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے لوگ ہیں جو دراصل ہندوستان کی شکاری آبادیوں اور آریائی زرعی خاندانوں کے امتزاج کا نتیجہ تھیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر جینیات ڈیوڈ رائچ کے نتائج بھی یہی ہیں کہ ہندوستانی ڈی این اے دراصل آریاؤں اور وسطِ ایشیا سے آنے والے چرواہوں کے اختلاط سے تشکیل پایا ہے۔
جنوبی ایشیا میں نہ جینیاتی حوالے سے کوئی ایک نسل موجود ہے نہ ہی کوئی ایک آبائی گروہ، نہ ہی کوئی ایک ایسا ڈی این اے جسے پورے خطے کی شناخت قرار دیا جا سکے۔ جنوبی ایشیا کی اصل طاقت اس کا تنوع ہے جو بتاتا ہے کہ اس خطے میں افریقہ اور مشرقی یورپ کے اثرات بھی موجود ہیں اور مقامیت کا عنصر بھی ہے۔ یہ تنوع افغانستان میں الگ شکلوں میں موجود ہے، پاکستان اور انڈیا میں اس کی صورتیں مختلف ہو جاتی ہیں۔
ڈی این اے کا صرف 0.1 فیصد تناسب ہی اس کی الگ شناخت بناتا ہے۔ اس پس منظر میں حالیہ مطالعوں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے شہریوں میں یہ تناسب مختلف ہے اور انڈیا و پاکستان کے شہریوں میں یہ عناصر مختلف ترتیب میں ہے۔ دونوں کا ڈی این اے مختلف ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔