تربیلا فائیو کا کوفرڈیم گرنے سے آپ کی بجلی کیسے مہنگی ہو سکتی ہے؟

یہ رپورٹ اسی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج پر مبنی ہے، جنہیں انڈپینڈنٹ اردو نے حاصل کیا ہے۔ یہ منصوبہ غیر ملکی قرضوں سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

اگست 2025 میں تقریباً 1500 میگاواٹ کے تربیلا فائیو توسیعی ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیر کے دوران ایک عارضی دیوار، جسے کوفرڈیم کہا جاتا ہے، منہدم ہو گئی۔

ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق یہ واقعہ خراب موسم یا سیلاب کے باعث نہیں بلکہ ڈیم کی محفوظ تعمیر کے ذمہ دار تین فریقوں، یعنی کنٹریکٹر، کنسلٹنٹ اور منصوبہ چلانے والے سرکاری ادارے واپڈا، کی جانب سے اصولوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا۔

کمیٹی کے مطابق کسی بھی فریق نے بروقت دوسرے کو روکنے یا غلطی کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

یہ رپورٹ اسی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج پر مبنی ہے، جنہیں انڈپینڈنٹ اردو نے حاصل کیا ہے۔ یہ منصوبہ غیر ملکی قرضوں سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین اطہر حمید نے تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کی۔ درخواست کے باوجود انہوں نے نہ تو مکمل رپورٹ فراہم کی اور نہ ہی کمیٹی کے نتائج پر تبصرہ کیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو جواب دینے کا کہا، تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

آخر ہوا کیا؟

کوفرڈیم دراصل ایک عارضی دیوار ہوتی ہے جو تعمیراتی مقام کو پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ یہ اس وقت تک کارآمد رہتی ہے جب تک اصل اور مستقل ڈھانچہ مکمل نہیں ہو جاتا۔

تربیلا فائیو منصوبے میں ٹھیکیدار، جس میں چینی کمپنی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنا لمیٹڈ (PCCCL) شامل ہے، نے کوفرڈیم کے ڈیزائن کو ایک سستے اور نسبتاً کمزور متبادل سے تبدیل کرنے کی تجویز دی۔

اس تجویز کے تحت مضبوط ڈھانچے کی جگہ راک فل استعمال کیا جانا تھا۔ معاہدے کے مطابق ایسی تبدیلی کی اجازت نہیں تھی۔

انجینئرنگ جانچ کے لیے مقرر کنسلٹنٹ، برطانیہ کی کمپنی ایم ایم پاکستان، نے اس کمزور ڈیزائن کو باقاعدہ تکنیکی تصدیق کے بغیر منظور کر لیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق: ’کوفرڈیم کے انہدام کا واقعہ تینوں سطحوں پر معاہدے سے ہٹ کر اقدامات اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ تھا۔

ٹھیکیدار نے کوفرڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کی تجویز دی، جو معاہدے کے تحت جائز نہیں تھی؛ انجینئر نے تکنیکی معیار کو یقینی بنائے بغیر ڈیزائن کی خامی کو مشروط طور پر قبول کر لیا؛ اور ادارے (ایمپلائر) نے تعمیر مکمل ہونے کے قریب، ڈیزائن تبدیلی کی معاہداتی حیثیت اور تکنیکی خامی پر سوال اٹھائے بغیر اسے منظور کر لیا۔‘

واپڈا سے 13 اور 14 جولائی کو فون کالز کے ذریعے، جبکہ 14 جولائی کو اس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (پی آر) کو ای میل کے ذریعے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا۔

 15 جولائی کی آخری کال تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ واپڈا نے جواب دینے کا کہا تھا، مگر اسی روز کی آخری کال کے باوجود اشاعت تک کوئی جواب فراہم نہیں کیا۔

تینوں فریقوں نے ابتدائی طور پر اس حادثے کا ذمہ دار سیلاب کو قرار دیا، تاہم تحقیقاتی کمیٹی نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔

کمیٹی کے مطابق اس وقت پانی کی سطح موسم کے لحاظ سے معمول کے مطابق تھی اور کوفرڈیم کی برداشت کی صلاحیت سے کہیں کم تھی۔ اصل مسئلہ ڈھانچے کی ناقص حفاظتی تہہ اور کمزور ڈیزائن تھا، نہ کہ دریا کا کوئی غیر معمولی رویہ۔

پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنا لمیٹڈ سے بھی انہی تاریخوں میں فون کے ذریعے رابطہ کیا گیا۔ کمپنی کے ایک نمائندے نے 13 جولائی کو کال کا جواب دیا اور مؤقف دینے کا کہا، مگر 14 اور 15 جولائی کی کالوں کا جواب نہیں دیا۔

16 جولائی، یعنی اشاعت کے دن، آخری بار رابطہ کیا گیا، جس کے بعد ایک پیغام بھی بھیجا گیا جس میں بتایا گیا کہ انڈپینڈنٹ اردو کو PCCCL کا مؤقف شامل کیے بغیر رپورٹ شائع کرنا پڑے گی۔ اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں شامل ایک اور نسبتاً چھوٹی تفصیل منصوبے کی نگرانی سے متعلق ایک بڑی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ جولائی 2023 میں واپڈا نے کنسلٹنٹ سے کوفرڈیم کی کارکردگی کا جائزہ طلب کیا۔

 اپنا آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے مشیر ادارے نے یہ درخواست اسی کنٹریکٹر کو بھیج دی، جس کے ڈیزائن پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

بعد ازاں کنٹریکٹر نے ایک سال سے زائد عرصے کے بعد اکتوبر 2024 میں اپنی رپورٹ جمع کروائی۔ گویا جس فریق کی ذمہ داری جانچ کرنا تھی، اسے خود اپنے کام کا جائزہ لینے کی اجازت دے دی گئی اور کسی نے مداخلت نہیں کی۔

ملک کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

اس حادثے کے اثرات محض ایک منہدم دیوار تک محدود نہیں ہیں۔ جب یہ منصوبہ 2017 میں منظور ہوا تھا تو اس کی لاگت 82 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ اب اس کی لاگت بڑھ کر 317 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، یعنی تقریباً 235 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اس منصوبے کے لیے ورلڈ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) نے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے فراہم کیے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کا ہدف بھی 2026 کے بجائے 2028 تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

یہ درست ہے کہ لاگت میں اضافے کی مکمل وجہ کوفرڈیم کا حادثہ نہیں۔ تعمیراتی اخراجات میں اضافہ اور مہنگائی نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے۔

 تاہم تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اضافی لاگت کا ایک اہم اور قابلِ گریز حصہ اندرونی انتظامی اور تکنیکی ناکامیوں کا نتیجہ تھا۔ یعنی تینوں ادارے وہ جانچ اور نگرانی انجام نہ دے سکے جو معاہدے کے تحت ان کی ذمہ داری تھی۔

سب سے زیادہ ناگزیر اثر بجلی کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے مطابق اس منصوبے سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت اس کی معاشی مدت کے دوران تقریباً 27 سے 28 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

 اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ملکی تاریخ میں قابلِ تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی مہنگی ترین بجلی ہوگی، حالانکہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر سستی پن بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

ہر سال کی تاخیر تعمیراتی قرضوں پر مزید سود کا بوجھ ڈالتی ہے، اور پاکستان کے پاور سیکٹر کے موجودہ مالیاتی نظام کے تحت یہ لاگت کہیں غائب نہیں ہوتی۔

بالآخر یہی بوجھ بجلی صارفین کے بلوں اور حکومتی مالی دباؤ کی صورت میں سامنے آتا ہے، اور یہی دباؤ پاکستان کو بار بار آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

اب تک کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟

واپڈا نے اس صورتِ حال پر ردعمل دیتے ہوئے مشاورتی کمپنی ایم ایم پاکستان-یوکے کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا۔ واپڈا کے مطابق کمپنی کبھی بھی ایک اہل پراجیکٹ منیجر فراہم نہیں کر سکی اور اسے مسلسل عملے کی کمی کا سامنا رہا۔

دوسری جانب ایم ایم نے بھی مئی 2025 میں معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس جاری کیا اور معاہدے میں طے شدہ 30 روزہ نوٹس مدت پوری کیے بغیر اپنا عملہ سائٹ سے واپس بلا لیا۔

تاہم جو چیز اب تک نہیں ہوئی وہ واپڈا کے اپنے کردار، یعنی ناقص ڈیزائن کی منظوری، یا اس ٹھیکیدار کے عوامی احتساب کی ہے جس کی تجویز سے یہ مسئلہ شروع ہوا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تعمیر کے دوران بعض ادائیگیاں مستقل کام کے بجائے عارضی کاموں کے لیے کر دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ مالی بے ضابطگی اب حکومت کے لیے ٹھیکیدار سے قانونی طور پر معاوضہ وصول کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔

 دوسرے لفظوں میں، جس ادارے کی ذمہ داری عوامی رقم کی حفاظت اور وصولی تھی، ممکن ہے وہ پہلے ہی اپنا قانونی مقدمہ کمزور کر چکا ہو۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار، ماہرِ معیشت اور مالیاتی امور کے ماہر فرخ سلیم کے مطابق 27 سے 28 روپے فی یونٹ کی لاگت کا بوجھ بالآخر عام ٹیکس دہندگان اور بجلی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں سے متاثر ہیں۔

ان کے مطابق پن بجلی کے منصوبوں میں لاگت میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے نیلم جہلم منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اسی طرز کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔ ان کے بقول اس کا نتیجہ گردشی قرضے میں اضافے اور حکومتی سبسڈی کی گنجائش میں مزید کمی کی صورت میں نکلے گا۔

معاملہ صرف ایک ڈیم تک محدود کیوں نہیں؟

یہ محض ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس بات کی کہانی ہے کہ غیر ملکی قرضوں سے تعمیر ہونے والا ایک اربوں روپے مالیت کا انفراسٹرکچر منصوبہ ڈیزائن کی منظوری، تکنیکی جانچ اور تعمیراتی نگرانی کے ہر مرحلے سے گزرا، لیکن ہر مرحلہ اس غلطی کو پکڑنے میں ناکام رہا جو اسے پچھلے مرحلے سے منتقل ہوئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ اس بات کی بھی کہانی ہے کہ ایسی ناکامیوں کی قیمت آخرکار کون ادا کرتا ہے۔ اس معاملے میں یہ قیمت پاکستانی بجلی صارفین ادا کرتے ہیں، جو ممکنہ طور پر ملکی تاریخ کی مہنگی ترین قابلِ تجدید بجلی خریدنے پر مجبور ہوں گے، اور وہ حکومت ادا کرتی ہے جو پہلے ہی اپنے قرضوں کے بوجھ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مذاکرات میں الجھی ہوئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج اپنی جگہ اس پورے معاملے کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ لیکن جو چیز اب تک سامنے نہیں آئی، وہ کسی حقیقی احتساب یا نتیجے کی صورت ہے۔

واپڈا نے عوامی سطح پر یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ ٹھیکیدار سے نقصان کا معاوضہ طلب کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس کے اپنے ادائیگی ریکارڈ کسی بھی ممکنہ دعوے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

چونکہ یہ منصوبہ ورلڈ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے کروڑوں ڈالر کے قرضوں سے چل رہا ہے، اس لیے دونوں ادارے اپنے نگرانی کے ضوابط کے تحت مزید فنڈز جاری کرنے سے قبل اس معاملے کی عوامی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

اگر ایسا نہ ہوا تو منصوبے کی اصل لاگت اور موجودہ لاگت کے درمیان تقریباً 235 ارب روپے کا فرق دو مرتبہ ادا کیا جائے گا: ایک بار بجلی صارفین اپنے بلوں کے ذریعے، اور دوسری بار وہ حکومت جس کی مالی گنجائش پہلے ہی مسلسل سکڑ رہی ہے۔

جبکہ اس تمام عمل کے ذمہ دار ادارے ممکن ہے کسی حقیقی احتساب یا نتیجے سے محفوظ رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات