راول ڈیم نیوی کلب: 'کس اتھارٹی کے تحت یہ جگہ الاٹ کی گئی؟'

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے اور چیف آف نیول سٹاف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جولائی کو تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

پاکستان نیوی کے حکام کہتے ہیں کہ راول ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب آج کا نہیں ہے بلکہ 1991 میں حکومت پاکستان نے یہ جگہ سیلنگ کی پریکٹس کے لیے پاکستان نیوی کے لیے مختص کی تھی  (تصویر: سوشل میڈیا)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول ڈیم کے کنارے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین اور چیف آف نیول سٹاف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے کہ کس اتھارٹی کے تحت یہ جگہ الاٹ کی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک عام شہری زینت سلیم کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اگر سی ڈی اے نے نیوی کو این او سی جاری بھی کیا ہے تو یہ وائلڈ لائف آرڈیننس اور 1992 کے زوننگ آرڈیننس کے خلاف ہے، کیونکہ رواں برس مئی میں سپریم کورٹ اپنے ایک آرڈر میں بھی قرار دے چکی ہے کہ اسلام آباد نیشنل پارک میں تعمیرات غیر قانونی ہیں کیونکہ اس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ راول ڈیم سے راولپنڈی شہر کو پانی کی ترسیل کی جاتی ہے، اس لیے ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب سے ماحولیاتی آلودگی پھیلے گی اور یہی نقطہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں بھی زیر بحث لایا گیا تھا۔

درخواست کے متن کے مطابق اگر کسی قانون کے تحت اجازت دی بھی گئی ہے تو یہ عوامی پارک کی جگہ ہے، اس کو مخصوص طبقے کی بجائے سب کے لیے میسر ہونا چاہیے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے راول ڈیم کے کنارے نیوی سیلنگ کلب سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کی وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا کی خبروں کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نیوی کو مذکورہ جگہ الاٹ کی گئی ہے۔

راول ڈیم کے کنارے بننے والے نیوی کلب کی تصاویر بھی درخواست کے ساتھ لگائی ہیں۔

سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے چئیرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ 'ایک آفیسر مقرر کرکے جگہ کا وزٹ کرائیں اور عدالت کو آگاہ کریں کہ کس اتھارٹی کے تحت جگہ الاٹ کی گئی؟'

 عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ 'یہ اہم نوعیت کیس ہے، لہذا اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل، چیئرمین سی ڈی اے اور چیف آف نیول سٹاف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جولائی تک سماعت ملتوی کر دی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس سلسلے میں پاکستان نیوی کے حکام سے رابطہ کیا تو ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'راول ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب آج کا نہیں ہے بلکہ 1991 میں حکومت پاکستان نے یہ جگہ سیلنگ کی پریکٹس کے لیے پاکستان نیوی کے لیے مختص کی تھی اور وہاں کشتی رانی اور غوطہ خوری کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ 'ابھی صرف اسی مختص کردہ جگہ کو جدید انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔'

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ معاملے پر انہوں نے بتایا کہ 'یہ صرف دستاویزات کا معاملہ ہے، جس پر سی ڈی اے سے بات چیت چل رہی ہے۔'

سی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'اگر جگہ مختص کردہ بھی ہے تو تعمیرات کے لیے اجازت ضروری ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ 'اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔'

دوسری جانب سملی ڈیم کے قریب واقع نیوی فارمز ہاؤس سوسائٹی میں زینت سلیم نامی ایک خاتون کا پلاٹ ہے جو کہ نیوی کی سوسائٹی میں ضم ہو چکا ہے۔

اس حوالے پر زینت سلیم نے ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ دائر کر رکھی تھی جو کہ زیر التوا تھی۔ تاہم نیوی سیلنگ کلب کا معاملہ سامنے آنے کے بعد زینت سلیم نے سیلنگ کلب کے معاملے پر بھی درخواست دائر کر دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان