صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی مسلح افواج نے جمعرات کو اپنے الگ الگ پیغامات میں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔ اس دن پاکستان بھر میں عام تعطیل ہے اور ملکی سطح پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں یوم یکجہتی کشمیر پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لاہور سمیت صوبے بھر میں 10 ہزار سے زیادہ افسران اور اہلکار سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات پر تعینات ہیں۔
ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ یوم یکجہتی کشمیر پر 279 ریلیز، 81 سیمینار اور 19 دیگر تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور انہیں فول پروف سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حساس مقامات پر منعقدہ یکجہتی کشمیر ریلیز اور اے کیٹگری پروگراموں پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی توثیق کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات نے کشمیری عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا نے انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات کے ذریعے اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، میڈیا کی آزادیوں کو محدود کیا جا رہا ہے، کشمیری قیادت کو قید میں رکھا جا رہا ہے اور خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈیجیٹل آزادیوں کا کچلا جانا، جن میں ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش بھی شامل ہے، زمینی حقائق کو چھپانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مساجد اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی حالیہ پروفائلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر زرداری نے ان اقدامات کو ’دانستہ خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش‘ قرار دیا، جن کا مقصد ’مسلم اکثریتی آبادی کی مذہبی آزادی کو محدود کرنا ہے۔‘
عالمی برادری سے محض ’تشویش کے اظہار سے آگے بڑھنے‘ کی اپیل کرتے ہوئے صدر زرداری نے مطالبہ کیا کہ وہ انڈیا پر دباؤ ڈالے تاکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کی جائیں، بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینے کے عزم کو پورا کیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈہ پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ ان برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں نے بلا شبہ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جانا ہے، تاہم تقریبا آٹھ دہائیوں سے انڈیا کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی پابندیوں اور آزادی اظہار رائے پر قدغنوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’پانچ اگست 2019 کو انڈیا نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی و قانونی اقدامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا، جس کا مقصد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں بلکہ متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی صریحاً نفی کرتے ہیں۔‘
بقول وزیراعظم: ’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈیا کے غیر قانونی اقدامات ہندوتوا نظریے سے متاثر ہیں، جس کا مقصد امتیازی سلوک کو معمول بنانا، مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا اور اختلاف رائے کو جرم قرار دینا ہے۔
’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مسلسل نگرانی، مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مسلم آبادی کو درپیش امتیازی سلوک کی واضح عکاسی کرتی ہے۔‘
انہوں نے اپنے پیغام میں کشمیریوں کو یقین دلایا کہ ’پاکستان، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک وہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وعدہ کی گئی آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے اپنا حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔‘
مسلح افواج
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقعے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاکستان بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کی حقِ خودارادیت کی عظیم جدوجہد میں ان کے ساتھ غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ ’جموں و کشمیر تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل، متعلقہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔‘
مسلح افواج نے زور دیا کہ عالمی برادری کو کشمیری عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے ٹھوس اور بامعنی اقدامات کرنا ہوں گے۔
مزید کہا گیا کہ ’افواجِ پاکستان پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے اپنے فرض میں ثابت قدم رہیں گی اور آزادی اور عزت و وقار کے اپنے جائز حق کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی برقرار رکھیں گی۔‘