پاکستان نے ہفتے کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامیہ کے مبینہ پروفائلنگ کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت‘ قرار دیا۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے مقامی حکام کو ایسے فارم تقسیم کیے ہیں جن کے ذریعے مساجد اور مدارس کی تفصیلات، ان کے مالی ریکارڈ، ائمہ اور انتظامی کمیٹیوں کے اراکین کی ذاتی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے کے رہائشیوں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈین پولیس نے کہا ہے کہ گذشتہ سال ایک ’وائٹ کالر ٹیرر ماڈیول‘ کی نشاندہی اور گرفتاری جس میں ایک امام مسجد بھی شامل تھے، کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔
اس اقدام نے متنازع خطے میں وسیع سطح پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما آغا روح اللہ مہدی نے اسے ’مذہبی آزادی کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
اس معاملے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ مذہبی شخصیات کی ذاتی معلومات، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں کا زبردستی حصول دراصل منظم ہراسانی ہے، جس کا مقصد ’عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنا اور ان کے مذہبی فرائض کی آزادانہ ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا‘ ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا: ’مذہبی امور میں یہ کھلی مداخلت مذہب اور عقیدے کی آزادی کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور مقبوضہ علاقے کی مسلم آبادی کو خوفزدہ اور غیرمحفوظ بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس بیان پر نئی دہلی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کشمیر 1947 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقسیم ہے۔ دونوں ممالک اس متنازع خطے پر دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں ہی کشمیر کے پورے علاقے پر دعویٰ کرتے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کو یہ ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی فرائض ’بغیر خوف، جبر یا امتیاز‘ کے ادا کر سکیں۔
بیان میں مزید کہا گیا: ’پاکستان کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی جاری رکھے گا اور ان کے خلاف ہر طرح کے مذہبی جبر و تعصب پر آواز اٹھاتا رہے گا۔‘