افغانستان کے دارالحکومت میں منگل کو دھماکوں، طیارہ شکن ہتھیاروں اور فائرنگ کی آوازوں سنی گئی ہیں اور یہ ایسے وقت ہوا جب افغان وزارتِ دفاع نے کہا کہ پاکستانی افواج کے خلاف ’لڑائی اب بھی جاری ہے۔‘
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے منگل کو کہا ہے کہ جلال آباد میں موجود اس کے ایک صحافی نے کابل میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنے جانے سے متعلق اطلاع دی۔
جلال آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر (30 میل) دور قریب ترین سرحدی گزرگاہ طورخم میں مقامی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ کئی دنوں سے جاری لڑائی اب بھی جاری ہے۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جمعرات سے سرحدی جھڑپیں جاری ہیں، جب افغانستان نے پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں سرحدی چوکیوں پر حملے کیے تھے۔
افغان وزارت دفاع کی جانب سے جاری تازہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات صوبہ پروان میں پاکستان کی جانب سے آئے ڈرون کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا ہے۔
بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے کرم میں سرحد پر قائم پاکستان فوج کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق افغان حکومت نے کہا ہےک جمعرات سے اب تک کم از کم 39 شہری مارے جا چکے ہیں، تاہم پاکستان نے اس تعداد پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے نے لڑائی میں بچوں کی اموات کی خبروں پر ’تشویش‘کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہری جانوں کے تحفظ‘ کی اپیل کی۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان ان عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
سرحدی لڑائی نے افغانستان کے متعدد صوبوں کو متاثر کیا ہے۔
افغانستان اور پاکستان جھڑپیں بدستور جاری ہیں
پاکستان کے وزیراطلاعات عطا تارڑ نے افغانستان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کی سہ پہر تین بجے تک کارروائی میں افغان طالبان حکومت کے 435 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 630 سے زائد زخمی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کی کارروائی میں 188 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 31 چوکیوں کو قبضے میں لیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراطلاعات نے کہا کہ اب تک کی کارروائی میں افغان فورسز کے 188 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’افغانستان بھر میں 51 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔‘
دونوں ملکوں کے درمیان لگ بھگ 2,600 کلومیٹر (1,615 میل) طویل سرحد سرحد ہے اور یہ براہ راست لڑائی حالیہ برسوں کی شدید ترین جھڑپ ہے۔
بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا
خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو طالبان کی وزارتِ دفاع کے حوالے سے کہا تھا کہ افغان فورسز نے صوبہ پکتیکا میں سرحد پر ایک پاکستانی فوجی بکتر بند ٹینک کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
اتوار کی شب افغان فورسز نے کہا تھا کہ پاکستانی جیٹ طیاروں نے کابل کے قریب واقع بگرام ایئر بیس پر بمباری کی کوشش کی، مگر انہیں روسی ساختہ ZU-23 طیارہ شکن توپوں کے ذریعے پسپا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی مالی نقصان۔
پاکستان کا مؤقف: مسئلہ صرف عسکریت پسندی
افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے، جو پاکستان کے اندر تواتر سے حملے کر رہیں
افغانستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا اور پاکستان کے سکیورٹی مسائل اس کا اندرونی معاملہ ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اسلام آباد میں سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ پاکستان کی صرف ایک ہی درخواست ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔۔۔ ہمارا افغانستان کے ساتھ کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔‘