ورلڈ کپ 2026: فیفا نے فینز کو پانی کی بوتلیں لانے سے کیوں روک دیا؟

دی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ تک فیفا کے ضابطۂ اخلاق میں یہ شق موجود تھی کہ ’ایک لیٹر تک گنجائش رکھنے والی خالی، شفاف اور دوبارہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلیں سٹیڈیم میں لائی جا سکتی ہیں۔‘

فٹ بال کلب آرسنل کے ایک فین 24 مئی 2026 کو ایک میچ کے دوران مینچیسٹر سٹی کے سٹیکر والی پانی کی بوتلیں اٹھائے ہوئے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

فیفا نے فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز سے چند روز قبل اچانک سے آخری وقت میں پالیسی تبدیل کرتے ہوئے شائقین کو سٹیڈیمز میں دوبارہ استعمال ہونے والی (refillable) پانی کی بوتلیں لانے سے روک دیا ہے جس کے نتیجے میں تماشائیوں کو پانی خریدنے کے لیے پیسے خرچنے پڑیں گے۔

دی ایتھلیٹک نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ابھی گذشتہ ماہ تک فیفا کے سرکاری سٹیڈیم ضابطۂ اخلاق میں یہ شق موجود تھی کہ ’وضاحت کے لیے، ایک لیٹر تک گنجائش رکھنے والی خالی، شفاف اور دوبارہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلیں سٹیڈیم میں لائی جا سکتی ہیں۔‘

تاہم دی ایتھلیٹک کے مطابق اب ان ہدایات میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’وضاحت کے لیے، دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں سٹیڈیم میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘

اے ایف پی کو جاری بیان میں فیفا کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، اور یہ بھی بتایا کہ ورلڈ کپ کے کئی مقامات پر پہلے ہی ایسی بوتلوں پر پابندی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’فیفا تمام کھلاڑیوں، ریفریز، شائقین، رضاکاروں اور عملے کی صحت اور حفاظت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔

’فیفا نے بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ کھلاڑیوں اور حاضرین کو ممکنہ خطرات اور چوٹوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان نے مزید کہا کہ سٹیڈیمز کے اطراف پانی فراہم کرنے کے مراکز، کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور مسٹنگ سٹیشنز دستیاب ہوں گے۔

بیان کے مطابق سٹیڈیم کے اندر فروخت ہونے والے بوتل بند پانی کی قیمتیں ان ہی سٹیڈیمز میں منعقد ہونے والے دیگر ایونٹس کے برابر رکھی جائیں گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران بعض کھلے سٹیڈیمز میں شدید گرمی شائقین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

گذشتہ ماہ شائع ہونے والی ورلڈ ویدر اٹریبیوشن کی ایک تحقیق کے مطابق ورلڈ کپ کے 104 میں سے 26 میچ ایسے حالات میں کھیلے جانے کا امکان ہے جہاں ویٹ بلب گلوبل ٹیمپریچر (WBGT) 26 ڈگری سے تجاوز کر جائے گا۔

ویٹ بلب گلوبل ٹیمپریچر انسانی جسم پر گرمی کے اثرات ناپنے کا ایک پیمانہ ہے جس میں درجہ حرارت، نمی، ہوا کی رفتار اور سورج کی شعاعوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال امریکہ میں منعقدہ فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران بھی شائقین کو سٹیڈیم میں پانی کی بوتلیں لانے کی اجازت نہیں تھی، حالانکہ اس وقت تماشائیوں نے شدید گرمی کی شکایت کی تھی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال