ارجنٹینا کے لیے مت روئیے۔ لیونل میسی کی آنکھوں سے ضرور آنسو بہے، کیونکہ ان کے شان دار ورلڈ کپ کیریئر کا اختتام ان کی خواہش کے مطابق نہ ہو سکا۔ لیکن ان کے ساتھی کھلاڑی اتنی ہمدردی کے مستحق نہیں۔ ورلڈ کپ کا کامیابی سے دفاع کرنے کی ان کی بہادر، ڈرامائی اور دل چسپ کوشش کا اختتام نظم و ضبط، تخلیقی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر گول پر شاٹس کی کمی کے ساتھ ہوا۔
یہ تاریخی کارنامہ دراصل 1962 کے بعد مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بننا نہیں تھا بلکہ باضابطہ طور پر ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کی سب سے کم حملہ آور ٹیم بننا تھا۔ ارجنٹینا نے 90 منٹ میں ایک بھی شاٹ نہیں لگایا، اور اضافی وقت میں داخل ہوتے وقت ان کا ایکس جی (Expected Goals) 0.00 تھا۔ ارجنٹینا کی پہلی کوشش 121ویں منٹ میں سامنے آئی، اس سے پہلے سپین 20 شاٹس لگا چکا تھا۔
یہ سب اس کھلاڑی کی موجودگی میں ہوا جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گولز میں براہِ راست حصہ لے چکا ہے، اور جسے بہت سے لوگ تاریخ کا بہترین فٹ بالر سمجھتے ہیں۔ میسی والی ٹیم اتنی بے جان، اتنی سست اور صرف کھیل کو روکنے اور تاخیر کا شکار بنانے پر مرکوز نہیں ہونی چاہیے۔
فیفا نے اگر میٹ لائف سٹیڈیم میں داخلے کے انتظامات کے ذریعے سب کا وقت ضائع کیا تو ارجنٹینا نے سٹیڈیم کے اندر موجود شائقین کا وقت ضائع کیا۔ ان کی اس بے معنی حکمت عملی میں اگر کوئی تسلی کی بات تھی تو شاید یہ کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان بے شمار مشہور شخصیات کو بھی بور کیا ہو گا جنہیں ٹکٹ مل گئے، حالانکہ یہ نشستیں حقیقی شائقین کو ملنی چاہیے تھیں۔
تماشائیوں میں موجود اداکار شاید حیران رہ گئے ہوں گے۔ یہ ایک ایسا مقابلہ ہونا تھا جسے بلاک بسٹر کہا جا رہا تھا، مگر اکثر لمحات میں یہ ڈرامے سے خالی تھا۔ آخرکار ہیرو کا کردار فیران ٹوریس نے سنبھالا، جو پہلے ایک گھنٹے تک تقریباً منظر سے غائب رہے تھے۔ جب کہ میسی، جو سٹیج کے سب سے بڑے ستارے تھے، غیر معمولی طور پر گمنامی میں کھو گئے۔
ان کا ورلڈ کپ فائنلز میں مجموعی ریکارڈ اب تین فائنلز پر مشتمل ہے: ایک فتح اور دو ایک صفر کی شکستیں۔ چھ ہفتوں تک ناممکن بھی ممکن محسوس ہونے لگا تھا کہ 39 سالہ میسی ایک بار پھر 2022 کا جادو دہرا سکتے ہیں، جب انہوں نے فائنل میں دو گول کیے تھے اور ٹرافی اٹھائی تھی۔
یہ ورلڈ کپ میسی کے لیے پچھلے ٹورنامنٹ کا تسلسل محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے ابتدائی پانچوں میچوں میں گول کیے، میروسلاو کلوزے کا مجموعی گولز کا ریکارڈ توڑا اور گولڈن بوٹ کی دوڑ میں آگے بڑھتے رہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ بڑھتی عمر کے اثرات روکنے پر دولت خرچ کرتے ہیں — شاید فیفا کے چند مہمان بھی ان میں شامل ہوں — میسی نے محض اپنی فٹ بالنگ صلاحیتوں کے ذریعے وقت کو شکست دینے کا کوئی نسخہ ڈھونڈ لیا تھا۔
لیکن یہ اس ورلڈ کپ کا پہلا میچ تھا جس پر ان کا کوئی حقیقی اثر نظر نہیں آیا۔ انہوں نے ابتدائی پانچ میچوں میں گول کیے تھے، سوئٹزرلینڈ کے خلاف آخری لمحات میں جان ڈال دی تھی اور انگلینڈ کے خلاف دونوں گولز کی بنیاد رکھی تھی۔ جولیان الواریز، جس کی قیمت 150 ملین پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے، کو مڈفیلڈ کے بائیں کنارے تک آنا پڑا، اور پھر انہیں تبدیل کر دیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ارجنٹینا کی کم ہمتی حیران کن تھی۔ شاید آخری لمحات میں گول کرنے کی ان کی صلاحیت نے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ جلد گول کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹوریس کے تاخیر سے کیے گئے گول کے بعد ہی ان میں جان آئی۔ اس کا کچھ کریڈٹ سپین کے مضبوط دفاع کو دیا جا سکتا ہے، مگر صرف کچھ حد تک۔ اس سے واضح ہوا کہ اب تک رفتار اور چوڑائی سے محروم ایک ٹیم زیادہ تر میسی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے سبب کامیاب ہو رہی تھی۔
جب میسی تک گیند پہنچنا بند ہوئی تو ارجنٹینا نے اینٹی فٹ بال کا راستہ اختیار کر لیا۔ اس ٹورنامنٹ میں انہوں نے اکثر اپنی فٹ بال روایت کے بہترین پہلو دکھائے تھے، مگر سب سے بڑے میچ میں انہوں نے اپنی بدترین جبلتوں کو دوگنا شدت سے اپنایا۔
ارجنٹینا کے فائنلز کی تاریخ میں یہ مقابلہ 2022، 1986 یا 1978 کے بجائے 1990 کے زیادہ قریب دکھائی دیا۔ انزو فرنانڈیز کا اخراج شاید ان کی حماقت کی یاد دلاتا ہے، جب انہیں احتجاج پر پیلا کارڈ ملا۔ مگر جب انہوں نے پاؤ کوبارسی کو خطرناک انداز میں گرایا تو شاید وہ خوش قسمت تھے کہ انہیں سیدھا ریڈ کارڈ نہیں ملا بلکہ دوسرا پیلا کارڈ دکھایا گیا۔ ورلڈ کپ فائنل میں نکالے جانے والے تیسرے ارجنٹائنی کھلاڑی نے میدان چھوڑنے میں بھی ہچکچاہٹ دکھائی۔ شاید حالیہ میچوں میں اتنی چالاکیوں سے بچ نکلنے کے بعد فرنانڈیز کو یقین ہو گیا تھا کہ ان پر کبھی ایسی سزا لاگو نہیں ہو گی۔
فیفا کو شاید ایک اور ارجنٹائنی کھلاڑی کے خلاف بھی کارروائی کرنا پڑے۔ لیاندرو پاریڈیس کو وقفے کے دوران طلب کیا گیا تھا۔ ارجنٹینا کے اس مشہور سخت گیر کھلاڑی نے جلد ہی رودری کو گیند سے دور دھکا دینے پر پیلا کارڈ حاصل کر لیا۔ فائنل سیٹی کے بعد انہوں نے گاوی کو زمین پر بھی گرا دیا، اور ممکن ہے کہ چند گھونسے بھی مارے ہوں۔
فرنانڈیز کے اخراج کے بعد ارجنٹینا کا کام مزید مشکل ہو گیا۔ ٹرافی کے دفاع میں اب ’دفاع‘ ہی ان کا اصل ہتھیار بن گیا۔ ایمی مارٹینز مسلسل مصروف اور متاثر کن دکھائی دیے۔ انہوں نے لامین یامال کی فری کک اور پھر نیکو ولیمز کے ہیڈر پر شان دار بچاؤ کیا۔
لیکن 120 منٹ کے دوران یہ یقین کرنا مشکل ہوتا گیا کہ یہی ٹیم ایک ورلڈ کپ اور دو کوپا امریکہ جیت چکی ہے۔ سپین نے انہیں کھیل اور پاسنگ دونوں میں مات دے دی۔ بحث کی جا سکتی ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں یہ پہلی واقعی مضبوط ٹیم تھی جس کا سامنا ارجنٹینا کو کرنا پڑا۔
قرعہ اندازی کے بعد ان کا مقابلہ کوارٹر فائنل میں پرتگال اور سیمی فائنل میں برازیل سے ہو سکتا تھا، مگر ایسا نہ ہوا۔ اس کے باوجود وہ تقریباً ہر مرحلے پر ٹھوکر کھاتے دکھائی دیے۔ انہوں نے چار ناک آؤٹ مراحل میں ڈرامائی انداز میں واپسی کی، لیکن انہیں ان ڈرامائی لمحات کی ضرورت بھی پڑی۔
آخرکار انہوں نے ان یادگار فتوحات اور اپنے سنہری دور کی یادوں کو دھندلا دیا۔ ارجنٹینا کا کھیل نہ متاثر کن تھا اور نہ ہی خطرناک۔ مگر نیو جرسی کے محبوب گلوکاروں میں سے ایک، فرینک سناٹرا کا مشہور گیت میچ سے قبل بجایا گیا تھا، اور آخر میں ارجنٹینا نے واقعی وہی کیا جو اس گیت میں کہا جاتا ہے: انہوں نے سب کچھ اپنے ہی انداز میں کیا۔
© The Independent