ارجنٹینا کی گہری نیلی جرسی اب محض ایک متبادل کٹ نہیں رہی۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ ٹیم کی فٹ بال داستانوں کا حصہ بن چکی ہے، ایک ایسی قمیص جس میں ورلڈ کپ کی کچھ مشہور ترین یادیں اور شاید تھوڑی سی خوش قسمتی بھی سمٹ آئی ہے۔
بدھ کو اٹلانٹا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جب دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوگا تو لیونل میسی اور ان کے ساتھی اپنی روایتی آسمانی نیلی اور سفید دھاریوں والی جرسی کی بجائے گہری نیلی رنگ کی ’اوے کٹ‘ پہنیں گے۔
ارجنٹینا نے 1986 کے میکسیکو ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں بھی انگلینڈ کے خلاف گہری نیلی جرسی پہنی تھی، جب ڈیاگو میراڈونا نے اپنا بدنام زمانہ ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول کیا تھا اور اس کے بعد شان دار انفرادی کوشش سے وہ گول کیا جسے بعد میں ’گول آف دی سنچری‘ کا نام دیا گیا۔
اس میچ میں ارجنٹینا نے انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دی تھی۔
بارہ سال بعد 1998 کے فرانس ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹینا نے انگلینڈ کے خلاف گہری نیلی جرسی پہنی۔ اس بار دونوں ٹیموں کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ 2-2 سے برابر رہا، جس کے بعد ارجنٹینا نے راؤنڈ آف 16 میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے انگلینڈ کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔
انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخیل اس سوچ کو سمجھتے ہیں۔
انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’اگر اس کے ساتھ کسی قسم کی توہم پرستی بھی جڑی ہوتی تو میں بھی یہی کرتا۔ اس لیے میں انہیں داد دیتا ہوں۔ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔‘
جرمن کوچ نے تسلیم کیا کہ پیشہ ورانہ کھیلوں کی بلند ترین سطح پر بھی توہم پرستی ایک طاقت ور عنصر بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا: ’میری اپنی بھی کچھ توہم پرستانہ عادتیں ہیں۔ میں آپ کو نہیں بتاؤں گا کیونکہ ایک اور توہم یہ ہے کہ اگر میں انہیں بتا دوں تو وہ کام نہیں کریں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے کچھ معمولات ہوتے ہیں جو پورے دن آپ کو متوازن اور پُرسکون رکھتے ہیں، اور یہ تبدیل نہیں ہوں گے۔ یقیناً ہمارے کچھ خوش قسمتی کی علامت سمجھے جانے والے تعویذ یا اشیا بھی ہوتی ہیں، اور اعلیٰ سطح کے کھیل میں یہ چیزیں بالکل معمول کی بات ہیں۔‘
اگر جرسی کے انتخاب کے پیچھے تاریخ اور توہم پرستی کا عنصر موجود تھا تو ارجنٹینا کے کوچ لیونل سکالونی اس بیانیے کو اپنانے میں کچھ ہچکچاتے دکھائی دیے۔
سکالونی نے کہا: ’میں نے تو نیلی جرسی کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم یہ فیصلہ کس نے کیا، لیکن شاید یہ روایت کا حصہ ہو۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا: ’واقعی مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ میں اس پر بات نہیں کر سکتا۔ اور اگر تھامس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تو میرے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔‘
ارجنٹینا کی گہری نیلی جرسی ملک کی ثقافت سے متاثر ہے اور اس میں سیاہ پس منظر پر نیلے رنگ کے گھومتے ہوئے نقش و نگار شامل ہیں جو ’فلیتیادو‘ آرٹ کے انداز سے متاثر ہیں۔
فلیتیادو بیونس آئرس سے تعلق رکھنے والا ایک آرائشی فن اور خطاطی کا انداز ہے جسے یونیسکو نے ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں شوخ رنگ، بہتے ہوئے پھولوں کے نقش، تھری ڈی شیڈنگ اور نہایت منفرد گوتھک طرز کی خطاطی شامل ہیں۔
تجربہ کار سکواڈ
ارجنٹینا کی قومی ٹیم، جسے ’البی سیلیستے‘ بھی کہا جاتا ہے، 2018 میں لیونل سکالونی کے کوچ بننے کے بعد دو ورلڈ کپ اور تین کوپا امریکہ ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل تک پہنچ چکی ہے۔ سکالونی کا خیال ہے کہ بدھ کو ان کا سکواڈ ماضی کے ان تجربات کی بدولت بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہمیں اس نوعیت کے میچز کھیلنے کا کچھ تجربہ حاصل ہے۔ یہ آپ کو کوئی حقیقی برتری تو نہیں دیتا، لیکن شاید آپ کو زیادہ سکون اور اعتماد کے ساتھ میچ میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے، اور یہ ایسی چیز ہے جو ہم نے اپنی محنت سے حاصل کی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم خوش ہیں، مطمئن ہیں، بے چینی بھی ہے اور جوش بھی۔ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ خوشی منانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے شائقین کو یہ خوشی دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی قومی ٹیم کو پوری جان لڑا کر کھیلتے ہوئے دیکھیں۔‘
’ظاہر ہے ہمارا حریف بھی ایک بہترین ٹیم ہے۔ کچھ بھی آسان نہیں ہوگا۔ ہمیں کچھ بھی بغیر محنت کے نہیں ملے گا، لیکن ہم فائنل تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اور ہم اس میچ سے لطف اندوز ہونے کی بھی کوشش کریں گے۔‘
سکالونی نے کہا کہ ان کے تمام کھلاڑی اس میچ کے لیے دستیاب ہیں، حالانکہ 1982 کی برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان جنوبی بحرِ اوقیانوس میں لڑی جانے والی جنگ کی وجہ سے اس مقابلے کے ساتھ سیاسی پس منظر بھی جڑا ہوا ہے۔
’حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فٹ بال میچ ہے۔ میں ان چیزوں کو آپس میں نہیں ملا سکتا، خاص طور پر ان واقعات کے احترام میں جو کئی برس پہلے پیش آئے تھے۔‘
