کراچی پولیس نے بدھ کو بتایا ہے کہ رواں ہفتے ڈکیتی کے دوران ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل میں ملوث تین ملزمان کو 36 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر آکاش کمار کو 13 جولائی کی دوپہر کراچی کے مصروف علاقے تین تلوار، فریئر تھانے کی حدود میں اس وقت ڈکیتی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا، جب وہ اپنے والد اور کزن کے ہمراہ بینک سے نقد رقم نکلوا کر واپس جا رہے تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کردی، جس سے ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ ملزمان نقد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بدھ کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ 36 گھنٹوں میں ڈاکٹرآکاش کے قتل اور ڈکیتی میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے ملزمان تک کیسے رسائی حاصل کی؟
اسد رضا نے دوران پریس کانفرنس بتایا کہ پولیس نے تکنیکی مہارت کا استعمال کیا۔ ’جس بینک سے رقم نکالی گئی وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، سیف سٹی اور نجی کیمروں سمیت 100 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا۔‘
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق 13 جولائی کو ’ڈاکٹر آکاش کی فیملی جیسے ہی بوٹ بیسن میں واقع بینک پہنچی، ایک ملزم پہلے سے وہاں موجود تھا۔ اس نے خاندان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ تقریباً 20 منٹ بعد جب رقم نکال کر وہ بینک سے باہر نکلے تو اس نے باہر موجود اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی۔ اس کے بعد دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے گاڑی کا تعاقب کیا جبکہ ایک کار بھی ان کی معاونت کے لیے استعمال کی گئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ تین تلوار کے قریب ملزمان نے گاڑی کو روکا، ڈکیتی کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کر دی، جس میں ڈاکٹر آکاش جان کی بازی ہار گئے جبکہ دیگر افراد محفوظ رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسد رضا کے مطابق پولیس نے صرف سی سی ٹی وی پر انحصار نہیں کیا بلکہ ملزمان کا ڈیجیٹل ڈیٹا بھی حاصل کیا، جس سے معلوم ہوا کہ تمام ملزمان واردات سے پہلے اور بعد میں مسلسل ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ڈیجیٹل شواہد سے یہ بھی سامنے آیا کہ وہ بوٹ بیسن کے بینک کے اطراف بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پولیس کو ڈیفنس کے علاقے میں ایک مشکوک گاڑی کی اطلاع ملی۔ ناکہ بندی کے دوران گاڑی کو روک کر تلاشی لی گئی تو اسلحہ برآمد ہوا اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ تھانے میں تفتیش کے دوران انہوں نے ڈاکٹر آکاش کے قتل اور ڈکیتی میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت رام چند عرف امان، انیل مرچند اور سریش عرف ساگر کےناموں سے ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی کار، اسلحہ، نقد رقم اور موبائل فون بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے تینوں ملزمان اس سے قبل بھی ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہ چکے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک ملزم اشتہاری بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں فریئر تھانے میں درج کر لیا گیا ہے اور واردات میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
ڈاکٹر آکاش کون تھے؟
ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند کے مطابق آکاش کا تعلق سندھ کے علاقے جھنڈکو سے تھا، وہ سندھ کے ایک معروف کاروباری گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔
ڈاکٹر آکاش کے والد سری چند نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا تھا کہ ان کے بیٹے خاندان کے نہایت ذمہ دار فرد تھے اور طب کے شعبے میں اپنا مستقبل روشن بنانے کے لیے پُرعزم تھے۔ ’ان کا خواب ایک کامیاب سرجن بننا تھا اور وہ ہمیشہ انسانی خدمت کے لیے تیار رہتے تھے۔‘
ڈاکٹر آکاش کی موت کے بعد اہل خانہ، ساتھی ڈاکٹروں، دوستوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے 13 جولائی کی رات کراچی کے علاقے تین تلوار پر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے ان کی میت سڑک پر رکھ کر قاتلوں کی فوری گرفتاری اور واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا۔
بعدازاں ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات 14 جولائی کو ادا کر دی گئی تھیں۔