کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی سے جھڑپ میں پولیس اہلکار سمیت 9 اموات

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کے مطابق کلین اپ آپریشن کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ’جتھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 9 جون 2026 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے پیش نظر پولیس اہلکار علاقے میں گشت کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام نے بتایا ہے کہ پولیس اور برسر احتجاج  کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ایک پولیس اہلکار سمیت 9 افراد جان سے گئے۔

کشمیر پولیس کے سربراہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن ’آزاد کشمیر شاہراہ کے مختلف مقامات پر دھرنا دینے کی کوشش کر کے آئے روز ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پیدا کر رہے ہیں‘ جس کے باعث عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

جبکہ حکومت کے مطابق اس احتجاج کے باعث عوام الناس کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’عوام الناس کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، نئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آج ٹولی آزاد کشمیر شاہراہ پر ٹریفک کی روانی اور امن و امان برقرار رکھنے کی غرض سے سلسلہ میں کلین اپ آپریشن کا آغاز کیا۔‘

پولیس کے مطابق کلین اپ آپریشن کے دوران نیلم کے مقام پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ’جتھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ آزاد کشمیر پولیس کے 08 اہلکار، سٹیٹ فیڈرل کانسٹیبلری کا ایک اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے 02 ملازمین بھی زخمی ہوئے۔‘

 یہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی جب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں نے کئی شاہراہیں تقریباً ایک ماہ سے بند کر رکھی تھیں۔ پولیس کے مطابق سڑکوں کی بندش کے باعث مقامی آبادی کو خوراک اور ادویات کی قلت اور نقل و حمل میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشمیر کے سیکریٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے منگل کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ احتجاج کرنے والے ’مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ‘ کر کے پولیس اہلکار کو قتل کیا۔

گفتار حسین کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر بھر میں ایک آپریشن شروع کر رہی ہیں تاکہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں پر قائم تمام رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔‘

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مختلف گروپوں کا اتحاد ہے جو گذشتہ ماہ سے مختلف مقامات پر دھرنے دے رہا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں ان 12 نشستوں کو ختم کیا جائے جو ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو کئی دہائیاں قبل انڈین زیرِ انتظام کشمیر سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔

 گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ مخصوص نشستیں علاقے سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہیں۔

تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب جون کے آغاز میں کشمیر کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ حاصل ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

 یہ نشستیں ان افراد کی نمائندگی کے لیے قائم کی گئی تھیں جو کشمیر کے دیرینہ تنازع کے باعث انڈین زیرِ انتظام کشمیر سے بے گھر ہوئے تھے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان