پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس اور سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کو مبینہ طور پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے منسلک مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک رینجر اہلکار جان سے چلا گیا۔
یہ تازہ پرتشدد واقعہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت قبل پیش آیا۔
کشمیر میں حکام گذشتہ کئی ہفتوں سے ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹ رہے ہیں جو انڈین زیر انتظام کشمیر سے آنے والے مہاجرین کے لیے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر کیے جا رہے ہیں۔
جے اے اے سی ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، طرز حکمرانی اور معاشی حقوق جیسے معاملات پر آواز اٹھانے کے لیے سامنے آئی تھی۔
تاہم حالیہ عرصے میں اس کی توجہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کشمیر حکومت نے گذشتہ ماہ جے اے اے سی پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ تنظیم پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ تاہم جے اے اے سی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا تازہ واقعہ راولا کوٹ میں ایک بس اڈے کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے پہلے ایک شہری علاقے میں فائرنگ کی، جس کے بعد موقعے پر پہنچنے والی پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ مسلح گروہوں کی براہ راست فائرنگ سے ایک رینجر اہلکار جان سے چلا گیا۔
کشمیر پولیس نے اپنی پریس ریلیز میں کہا واقعے میں ایک سکیورٹی اہلکار جان سے گیا جبکہ ایک اور زخمی ہوا۔
پولیس نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ جھڑپ کے دوران حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا۔ جے اے اے سی نے تاحال ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اسملبی میں مہاجرین کی نشستوں کا تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب الیکشن کمیشن نے 27 جولائی کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔
گذشتہ ماہ کشمیر کی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا، جس کے بعد جے اے اے سی نے اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کر دی۔
اس کے بعد سے جاری بدامنی میں کم از کم 24 افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
کشیدہ صورتحال کے باوجود کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے جبکہ جے اے اے سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاجی مہم جاری رکھے گی، جس میں وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ بھی شامل ہے۔
تعلیمی اداروں کو طلبہ کو احتجاج سے دور رکھنے کی ہدایت
آج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اعلیٰ سرکاری حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تعلیمی اداروں کو طلبہ و طالبات کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے جبکہ اداروں کو والدین کو فوری طور پر صورتحال سے آگاہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
کشمیر کے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے اپنی گفتگو میں میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر خطے میں امن اور معمولات زندگی کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا جے اے اے سی کا ’اصل مقصد پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تنظیم تاجروں کو دھمکیاں دے کر زبردستی بازار بند کروانے اور شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ طلبہ، خواتین اور بچوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جا رہا ہے۔
سیکریٹری داخلہ کے مطابق طلبہ کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں احتجاجی اور انتشاری سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کالعدم تنظیم کے سربراہ خواجہ مہران کی خطےکے داخلی راستے بند کرنے کے لیے دی گئی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن نیا حربہ نہیں، ماضی میں بھی ایسی تمام دھمکیاں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عوامی تائید کھونے کے بعد کمیٹی خواتین، معصوم بچوں اور طلبہ و طالبات کو احتجاج میں آگے لا کر انسانی ڈھال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری کی ہیں۔
ان کے مطابق تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو طلبہ و طالبات کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے جبکہ اداروں کو والدین کو فوری طور پر صورتحال سے آگاہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو طلبہ کی حاضری اور نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور انہیں احتجاج یا دھرنے کا حصہ نہ بننے دینے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کو کہا گیا ہے۔