فیفا ورلڈ کپ: سیمی فائنل سے پہلے لگا ’وی اے آرجنٹینا‘ کا دھبہ اور شکایات کا انبار

ارجنٹینا کی سیمی فائنل تک رسائی کے دوران مخالف ٹیموں کے ریفرنگ فیصلوں پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ میں 11 جولائی 2026 کو ارجنٹینا اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان کوارٹر فائنل میں ریفری وی اے آر کے ذریعے فاؤل کو چیک کر رہے ہیں (اے ایف پی)

فیفا ورلڈ کپ میں ریفرنگ (وی اے آر) کے نئے پروٹوکول نے شائقین کے ذہنوں میں ٹورنامنٹ کی شفافیت سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، جبکہ ارجنٹینا سے متعلق ایک اور متنازع ریفرنگ فیصلہ ان شکایات کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

فیفا کی سابق ریفری اور برطانوی نشریاتی ادارے آئی ٹی وی کی قوانین کی تجزیہ کار کرسٹینا انکل نے پیر کو کہا کہ موجودہ نظام عوامی اعتماد کے لیے ایک ’بارود کے ڈھیر‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

ارجنٹینا کی بدھ کو انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل تک رسائی کے دوران مخالف ٹیموں کی جانب سے مسلسل ریفرنگ فیصلوں پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ہفتے کو سوئٹزرلینڈ کے خلاف کوارٹر فائنل میں بریل ایمبولو کو ڈائیونگ (سمولیشن) پر دوسرا پیلا کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔ سوئس کوچ مورات یاکین نے وی اے آر کے تحت کیے گئے اس فیصلے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔

پیر کو اس معاملے پر تبصرے کی درخواست پر فیفا نے روئٹرز کو 8 جولائی کو ریفرنگ کمیٹی کے سربراہ پیئرلوئیجی کولینا کا انٹرویو بھیج دیا، جس میں انہوں نے مصر کے خلاف ارجنٹینا کے پری کوارٹر فائنل میں جانبداری کے الزامات مسترد کیے تھے۔

نیا پروٹوکول، جس کے تحت غلط شناخت جیسے معاملات میں وی اے آر کو مداخلت کی اجازت دی گئی ہے، 2026-27 کے قوانین اور ورلڈ کپ میں نافذ کیا گیا ہے، حالانکہ اس کی عملی آزمائش بہت محدود رہی ہے۔

کرسٹینا انکل کے مطابق ’میرے خیال میں یہ پروٹوکول ابتدا ہی میں اس شکل میں نافذ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کارڈ کس کھلاڑی کو دکھایا جائے، بلکہ اب وی اے آر اصل فیصلے کی بنیاد بھی تبدیل کر رہا ہے۔

’اب صرف کارڈ کا رخ نہیں بدلا جا رہا بلکہ فری کک کس ٹیم کو ملے گی، یہ بنیادی فیصلہ بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں وی اے آر اب باقاعدہ ریفرنگ کو دوبارہ کرنے کے عمل میں داخل ہو چکا ہے، جس سے بچنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔‘

یہ حقیقت کہ اس نئے پروٹوکول سے فائدہ ارجنٹینا کو پہنچا، سوشل میڈیا پر "VARgentina" جیسے القابات کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انکل نے کہا کہ ’مناسب آزمائش کے بغیر اس پروٹوکول کو وسعت دینا ایسا ہے جیسے بارود کے ڈھیر پر چنگاری ڈال دی جائے۔ مجھے لگتا ہے کہ ابھی آخری بڑا تنازع سامنے آنا باقی ہے۔‘

عوامی اعتماد متاثر

یہ بحث گروپ مرحلے سے ہی جاری ہے، جب الجزائر نے مطالبہ کیا تھا کہ لیونل میسی کو ان کے کپتان عیسیٰ مانڈی کی پنڈلی پر قدم رکھنے پر ریڈ کارڈ دیا جائے، لیکن ایسا نہ ہوا اور میسی نے اسی میچ میں ہیٹ ٹرک کر دی۔

چند روز بعد الجزائر نے ریفرنگ کے خلاف باضابطہ شکایت بھی درج کرائی۔

ارجنٹینا اور مصر کے درمیان پری کوارٹر فائنل بھی تنازعات کی زد میں رہا۔ مصر کا 62ویں منٹ میں کیا گیا گول وی اے آر نے فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ بعد میں مصر کی پینلٹی کی اپیل بھی رد کر دی گئی، جس کے بعد ارجنٹینا نے 92ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کر دیا۔

مصری فٹبال فیڈریشن کا کہنا تھا کہ کئی ریفرنگ فیصلوں نے میچ کے نتیجے پر اثر ڈالا۔

تاہم کرسٹینا انکل کے مطابق ان دونوں میچوں میں انہیں کوئی ایسا فیصلہ نظر نہیں آیا جسے واضح طور پر ناقص ریفرنگ قرار دیا جا سکے، اگرچہ شائقین اکثر شکست کی صورت میں سب سے پہلے ریفری کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میدان سے باہر پیش آنے والے بعض واقعات نے بھی شائقین کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔

حال ہی میں امریکہ کے سٹرائیکر فولارن بالوگن کی ایک میچ کی پابندی آخری لمحے میں معطل کر دی گئی، جبکہ انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑی جیرل کوانسہ کو دو میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد فیفا کے فیصلوں پر مزید سوالات اٹھے۔

انکل نے کہا ’میرے خیال میں اس وقت شائقین کا اعتماد تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ میں نے بطور ریفری اور تجزیہ کار کئی بڑے ٹورنامنٹس کور کیے ہیں، لیکن اس مرتبہ جتنی بحث اور شکوک و شبہات دیکھے ہیں، اس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملی۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال