کراچی میں پولیس نے بینکوں سے رقم نکلوانے والے شہریوں کی ریکی کرنے والے ایک 55 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جو گذشتہ چھ برس سے ایک منظم گروہ کے ساتھ مل کر رہزنی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث تھے۔
پولیس کے مطابق سفید داڑھی کے حامل محمد منگی عموماً سادہ لباس میں ملبوس ہوتے تھے، جن کے سر پر ٹوپی رہتی تھی۔ انہیں فیروز آباد پولیس نے 12 جولائی کو گرفتار کیا۔
ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ملزم کے طریقہ واردات کے حوالے سے بتایا کہ ’محمد منگی نامی تقریباً 55 سالہ شخص گذشتہ پانچ سے چھ برس سے کراچی کے مختلف بینکوں میں نہایت سادہ اور مذہبی حلیے میں جاتا تھا۔ کبھی ہاتھ میں چیک ہوتا، کبھی بجلی یا گیس کا بل اور کبھی پانچ ہزار روپے کا نوٹ لے کر ٹوکن حاصل کر لیتا تاکہ ہر کسی کو یہی لگے کہ وہ بھی دیگر شہریوں کی طرح اپنے بینک کے کام سے آیا ہے۔‘
ایس ایچ او کے مطابق: ’وہ گھنٹوں بیٹھ کر شہریوں پر نظر رکھتا تھا۔ خاص طور پر وہ ایسے افراد کو دیکھتا جو بڑی رقم نکلوا کر باہر جا رہے ہوتے۔ جیسے ہی اسے کوئی مناسب ہدف نظر آتا، وہ بینک سے باہر نکل کر صرف اسی مقصد کے لیے رکھے گئے موبائل فون سے اپنے ساتھیوں کو اطلاع دیتا اور پھر گینگ موقع دیکھ کر شہری کو لوٹ لیتا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’محمد منگی اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ چار رکنی منظم گینگ کام کر رہا تھا۔ ساتھیوں کے نام فی الحال ظاہر نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ محمد منگی کی گرفتاری پہلی بار نہیں ہوئی۔ وہ 2021 میں بھی اس وقت گرفتار ہوئے تھے جب ان کے مبینہ گینگ کی ایک ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اس مقدمے میں ملیر سٹی پولیس نے انہیں گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں وہ پی آئی ڈی سی اور آرام باغ تھانوں کی حدود میں بھی ڈکیتی اور رہزنی کے مقدمات میں گرفتار ہوئے۔
بقول ایس ایچ او فیروز آباد: ’دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد منگی کا حلیہ ہی ان کی سب سے بڑی ڈھال تھا۔ کبھی نماز کی ٹوپی، کبھی ماسک، کبھی مختلف لباس۔ بینک عملہ بھی انہیں ایک معمر شہری سمجھ کر نظرانداز کر دیتا بلکہ بعض اوقات عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں پانی بھی پیش کر دیتا جبکہ وہ خاموشی سے اپنے اگلے ہدف کی تلاش میں مصروف رہتے۔‘
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران محمد منگی نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی مستقل روزگار نہیں تھا جبکہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ان کی اپنے مبینہ ساتھیوں سے شناسائی ہوئی اور وہ اسی نیٹ ورک کا حصہ بن گئے۔
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ جب محمد منگی کو مختلف وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز دکھائی گئیں تو وہ خود بھی حیران رہ گئے کہ پولیس اتنے عرصے سے ان کی سرگرمیوں پر خاموشی سے نظر رکھے ہوئے تھی۔ پولیس کو امید ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد دیگر مبینہ ساتھی بھی جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔
دوسری جانب پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ بینکوں سے بڑی رقم نکلوانے کے بعد غیر معمولی احتیاط کریں اور اگر کسی مشکوک شخص کی نقل و حرکت محسوس ہو تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔