کراچی کے لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراؤنڈ میں پیر کی شب فیفا ورلڈ کپ میں برازیل اور ناروے کے درمیان میچ کی سکریننگ کے دوران ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا جسے انتظامیہ نے ’معمولی جھگڑا‘ قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ پیر کی شب اس وقت پیش آیا جب لیاری فٹ بال سٹیڈیم میں برازیل اور ناروے کا میچ براہ راست دکھایا جا رہا تھا۔
اس میچ کو دیکھنے والوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر دانیال بھی موجود تھے، جو گراؤنڈ کا ماحول، شائقین کا جوش و خروش اور میچ کی رونق اپنے کیمرے میں محفوظ کر رہے تھے۔
تاہم میچ کے دوران اچانک صورت حال کشیدہ ہو گئی۔
دانیال نے بعد ازاں اپنے انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب اکاؤنٹس پر جاری ویڈیوز اور وضاحتی بیان میں دعویٰ کیا کہ لیاری فٹ بال گراؤنڈ میں برازیل کے چند سپورٹرز نے ان پر مبینہ طور پر حملہ کیا۔
ان کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ان کی شرٹ پھٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
اپنے بیان میں دانیال نے کہا کہ ’برازیل گول نہیں کر رہا تھا، اسی دوران کچھ لوگ غصے میں میرے پاس آئے اور مجھے ویڈیو بنانے سے روکا۔ انہوں نے کہا کہ برازیل گول نہیں کر رہا اور تم ویڈیو بنا رہے ہو۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دنیال کے مطابق انہوں نے کہا: ’میں کیا کر سکتا ہوں اگر برازیل گول نہیں کر رہا تھا؟ میں تو صرف لیاری والوں کا فٹ بال کریز دکھانے آیا تھا۔ میں خود بھی میچ انجوائے کر رہا تھا، ہنس رہا تھا، کھیل رہا تھا اور ناچ رہا تھا، لیکن میرے ساتھ یہ سب ہوگیا۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران ان سے موبائل فون اور گمبل بھی چھینا گیا جو انہوں نے واپس حاصل کر لیا۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر نے الزام عائد کیا کہ اس موقعے پر ہوائی فائرنگ بھی ہوئی، جس کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ گئے۔
دوسری جانب دانیال کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز کے مختصر حصوں میں چند افراد کو ’موبائل بند کرو‘ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، تاہم ویڈیوز سے واقعے کی مکمل صورت حال واضح نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے دانیال کے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہوتی ہے۔
واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراؤنڈ میں سکریننگ اور نظم و ضبط کے انتظامات کی نگرانی کرنے والے میونسپل کمشنر حماد این ڈی خان سے رابطہ کیا۔
حماد این ڈی خان نے دانیال کے دعوؤں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ انفلوئنسر اور چند شائقین کے درمیان تلخ کلامی ضرور ہوئی، تاہم ان کے مطابق یہ واقعہ فٹ بال گراؤنڈ کے اندر نہیں بلکہ باہر پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے دانیال سے بھی بات کی، جس میں ان کے بقول: ’انفلوئنسر نے خود اسے ’چھوٹا موٹا جھگڑا‘ قرار دیا۔
حماد این ڈی خان کے مطابق برازیل کی ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر بہت سے شائقین جذباتی تھے اور اسی دوران دانیال ان کی ویڈیوز بنا رہے تھے اور برازیل کی شکست کا ذکر کر رہے تھے، جس پر بعض شائقین نے اعتراض کرتے ہوئے انہیں ریکارڈنگ بند کرنے کا کہا۔
میونسپل کمشنر کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر اس واقعے کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ زمینی حقائق سے مختلف ہے۔ یہ کوئی بڑا حملہ نہیں بلکہ ایک معمولی جھگڑا تھا، جسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ گذشتہ 22 روز سے لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراؤنڈ میں روزانہ 10 ہزار سے زائد شائقین بڑی سکرین پر میچ دیکھنے آ رہے ہیں، لیکن اس دوران کسی قسم کی بدامنی یا بدنظمی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔
’تاہم انتظامیہ کی پالیسی ہے کہ اگر کوئی شخص تجارتی یا سوشل میڈیا مقاصد کے لیے شائقین کی ویڈیو ریکارڈ کرنا چاہے تو اسے پہلے انتظامیہ کو اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کو بروقت قابو میں لایاجا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لیاری ایک مہمان نواز علاقہ ہے اور یہاں ہر شخص کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ فٹ بال کی سکریننگ صرف لیاری کے رہائشیوں کے لیے نہیں بلکہ شہر بھر سے آنے والے تمام شائقین کے لیے ہے۔‘