کراچی کو اگر ایک زندہ جسم تصور کیا جائے تو لیاری اس کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ ایک ایسا دل جو برسوں سے فٹ بال کی محبت میں دھڑکتا آ رہا ہے۔
یہاں کی تنگ گلیاں، کھلے میدان، دیواروں پر بنے فٹ بولرز کے خاکے اور نوجوانوں کے قدموں میں لپٹا فٹ بال، سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ لیاری اور فٹ بال کا رشتہ محض کھیل کا نہیں بلکہ جذبات، ثقافت اور شناخت کا رشتہ ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی لیاری ایک بار پھر فٹ بال کے رنگوں میں رنگ گیا ہے۔ بغدادی کے انٹرنیشنل فٹ بال گراؤنڈ میں بڑی سکرین نصب کی گئی ہے جہاں میچوں کی براہ راست نشریات دکھائی جا رہی ہیں۔
شام ڈھلتے ہی شائقین کا ہجوم گراؤنڈ کا رخ کرنا شروع کر دیتا ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ رات دو بجے، تین بجے بلکہ صبح چھ بجے ہونے والے میچز کے لیے بھی گراؤنڈ تماشائیوں سے بھرا رہتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم جب بغدادی کے انٹرنیشنل گراؤنڈ پہنچی تو وہاں کا منظر کسی عالمی فین زون سے کم نہ تھا جیسے ہی میچ شروع ہوتا ہے، سکرین پر نظریں جم جاتی ہیں۔ ہر پاس، ہر حملہ اور ہر گول کے ساتھ جذبات کی لہریں گراؤنڈ میں دوڑنے لگتی ہیں۔
پسندیدہ ٹیم کے گول پر نوجوان اپنی نشستوں سے اچھل پڑتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میچ کسی دور دراز ملک میں نہیں بلکہ لیاری کی اپنی زمین پر کھیلا جا رہا ہو۔
فٹ بال شائقین میں موجود گل حمید بلوچ کا کہنا تھا کہ لیاری کی اصل پہچان وہ نہیں جو دھرندر میں دکھائی گئی ہے بلکہ اصل لیاری یہ ہے، جہاں مسائل کے باوجود لوگ کھیل اور امن سے محبت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’بلدیاتی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن فٹ بال سے محبت سب سے بڑھ کر ہے۔ یہی اصل لیاری ہے، جہاں نوجوان آج بھی میدانوں کو آباد رکھتے ہیں اور فٹ بال کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔‘
گراؤنڈ میں موجود ایک اور فٹ بال شائق، جو پرتگال اور رونالڈو کے مداح تھے، نے بتایا کہ رونالڈو کا گول دیکھ کر ان کے جذبات قابو میں نہیں رہے۔
انہوں نے بتایا: ’مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ ورلڈ کپ میں رونالڈو کے سفر کے آخری لمحات میں سے ایک ہے۔ اس سوچ نے اداس کر دیا، لیکن امید ہے کہ پرتگال ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کرے گا۔‘
نوروز بلوچ کے مطابق فیفا ورلڈ کپ شروع ہونے کے بعد لیاری میں عید جیسا سماں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں شاید کم ہی لوگ صبح چھ بجے فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہوں، لیکن لیاری والے صبح سویرے بھی گراؤنڈ پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب میونسپل کمشنر لیاری حماد خان نے بتایا کہ لیاری کے فٹ بال شائقین کے لیے بڑی سکرین کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ لوگ اجتماعی طور پر ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد لیاری کے نوجوانوں اور فٹ بال سے محبت کرنے والوں کو ایک مثبت سرگرمی فراہم کرنا ہے۔
یہاں بجلی کی فراہمی کے حوالے سے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے تاکہ شائقین بغیر کسی رکاوٹ کے میچز دیکھ سکیں۔
رات گہری ہوتی جاتی ہے، گھڑی کی سوئیاں صبح کی جانب بڑھنے لگتی ہیں، لیکن بغدادی کے انٹرنیشنل فٹ بال گراؤنڈ میں بیٹھے شائقین کی آنکھوں میں نیند نہیں بلکہ اگلے گول کا انتظار ہوتا ہے۔
شاید یہی لیاری کی اصل پہچان ہے۔ ایک ایسا علاقہ جو مشکلات کے باوجود زندگی، امید اور فٹ بال سے اپنا رشتہ نہیں توڑتا۔ کراچی کے اس دھڑکتے دل میں جب بھی فٹ بال کی آواز گونجتی ہے، پورا لیاری ایک میدان بن جاتا ہے اور دنیا کو بتاتا ہے کہ پاکستان میں اگر فٹ بال کا کوئی گھر ہے تو وہ لیاری ہے۔