کچی آبادی سے 70 ہزار سبسکرائبر تک: دہلی کے محمد عرفان کا یوٹیوب چینل بند کیوں ہوا؟

سوشل میڈیا صارفین ’کاکروچ احتجاج‘ سے مشہور ہونے والے محمد عرفان کا چینل بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

’میں عرفان‘ نامی یوٹیوب چینل کے میزبان دہلی کے محمد عرفان (سکرین گریب یوٹیوب چینل)

سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد یوٹیوب انڈیا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ دہلی کی ایک کچی آبادی کے رہائشی محمد عرفان کا اکاؤنٹ بحال کیا جائے۔ ان کے چینل کے فالوورز کی تعداد راتوں رات بہت بڑھ گئی تھی، مگر ویڈیو پلیٹ فارم نے اسے بند کر دیا۔

یوٹیوب نے ابھی تک اس بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی۔ محمد عرفان کے پیج ’میں عرفان‘ کو کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ پیغام دکھائی دیتا ہے کہ ’گوگل کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی پر یہ اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔‘

محمد عرفان حال ہی میں جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران آئین کی تمہید پڑھنے کے بعد سوشل میڈیا پر مشہور ہوئے تھے۔

انہوں نے غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو درپیش مشکلات اور سب کے لیے تعلیم، صحت کی سہولتوں اور جمہوری حقوق کی دستیابی کی ضرورت پر بات کی تھی۔

28 جولائی کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ محمد عرفان کی سوچ انڈیا کے نوجوانوں کی طاقت اور روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔

یوٹیوب چینل بند ہونے کے بعد محمد عرفان نے ایکس پر لکھا کہ اکاؤنٹ کا بند ہونا ’کسی غلطی‘ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے یوٹیوب سے یہ غلطی درست کرنے کی اپیل کی۔

سوشل میڈیا صارف راج رانے کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ میٹا، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب سب بی جے پی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا: ’جو کوئی بھی ان کے خلاف بات کرتا ہے، اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جاتا ہے۔ میرا اکاؤنٹ بھی انسٹاگرام پر بند کر دیا گیا اور انسٹاگرام کے ان بے شرم احمقوں نے اس بات کا جواب تک نہیں دیا کہ انہوں نے میرا اکاؤنٹ کیوں بند کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد عرفان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا: ’میرا چینل بالکل نیا تھا اور میں نے پوری دیانت داری سے یوٹیوب کی تمام ہدایات پر عمل کیا ہے۔ لوگوں نے میرے مواد کو بہت پسند کیا، اسی لیے میرے سبسکرائبرز کی تعداد بڑھی۔ 

’ایسا لگتا ہے کہ آپ کے خودکار نظام سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ براہ کرم میرے چینل کا دوبارہ جائزہ لیں اور اسے بحال کریں۔‘

سینیئر صحافی اجیت انجم بھی محمد عرفان کے چینل کی حمایت میں سامنے آئے۔ انہوں نے چینل فعال ہونے کے دوران اور بند کیے جانے کے بعد ایکس پر اس کے حق میں کئی پوسٹس کیں۔

اجیت انجم نے دو اگست، 2026 کو اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’دہلی کی ایک کچی آبادی میں رہنے والے محمد عرفان نامی نوجوان نے ہماری مدد سے کل ہی اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا تھا۔ کل شام سے آج صبح تک ان کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد 70 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’آج صبح اچانک ان کا یوٹیوب چینل بند کر دیا گیا۔ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ سبسکرائبرز کیسے حاصل کر لیے؟ یہ اپنے آپ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ پھر یوٹیوب نے ان کا چینل اتنی اچانک کیوں بند کر دیا؟‘

کئی دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی محمد عرفان کے پیج کی حمایت میں پوسٹس کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینل اور اس پر موجود مواد حقیقی تھا اور یہ اکاؤنٹ گوگل کی ملکیت یوٹیوب کے خودکار نظام کی غلطی سے بند ہوا۔ انہوں نے یوٹیوب سے مسئلہ درست کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل