یوٹیوبر ڈکی بھائی کے بینک اکاونٹس کی بحالی کا حکم

ڈکی بھائی کی وکیل نے کہا کہ ابھی ابتدائی ریلیف مل گیا ہے لیکن مقدمے کی کارروائی ہونا باقی ہے اور عدالت کا حتمی فیصلہ ٹرائل ختم ہونے کے بعد آئے گا۔

معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی (ڈکی بھائی/ انسٹا اکاؤنٹ)

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کے منجمد بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں اپنے یوٹیوب چینل پر نئی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ 

جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیر کو دوران سماعت ڈکی بھائی کے وکلا نے انہیں یوٹیوب فالورز ایک کروڑ ہونے پر شیلڈ پیش کی۔

تاہم ڈکی بھائی کی وکیل امرت احمد شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ابھی ابتدائی طور پر تو ریلیف مل گیا ہے۔ لیکن استغاثہ کے وکیل ابھی پیش نہیں ہوئے۔ وہ پیش ہوں گے تو جرح ہو گی اور کیس کا ٹرائل شروع ہو گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آج عدالت نے جو ریلیف دیا ہے وہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔‘ 

نینشل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی) نے گذشتہ سال اگست میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کو جوئے کی ایپس پروموٹ کرنے اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات میں مقدمات درج کر کے گرفتار کیا تھا۔ 

یوٹیوبر کی اہلیہ عروب جتوئی نے گرفتاری کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی اور این سی سی آئی کے افسران پر کروڑوں روپے رشوت وصول کرنے کے الزامات لگائے۔ 

ان الزامات کی روشنی میں این سی سی آئی لاہور کے ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سمیت متعدد افسران کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 

ڈکی بھائی اور این سی سی آئی افسران کے خلاف کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ یوٹیوبر اور ان کی اہلیہ ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں البتہ کیسوں کی سماعت جاری ہے۔

پیر کو مقدمے کی سماعت کے دوران ڈکی بھائی اپنی اہلیہ عروب جتوئی اور وکلا بیرسٹر امرت شیخ اور عثمان لطیف کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ 

دوران سماعت وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اکاؤنٹس کی بندش سے نہ صرف ان کے مؤکل کا روزگار متاثر ہوا بلکہ ان سے وابستہ ٹیم بھی مالی مشکلات کا شکار ہوئی۔ 

عدالت نے دلائل سننے کے بعد اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی احکامات کے مطابق سعد الرحمٰن اپنے یوٹیوب چینل پر نئی ویڈیوز اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ تاہم وہ زیر التوا کیس سے متعلق کوئی گفتگو نہیں کریں گے جبکہ عدالت کی اجازت کے بغیر کیس کے شواہد یا کارروائی پر بھی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو یوٹیوب چینل پر موجود 27 ویڈیوز پر اعتراض ہے۔ 

تاہم فی الحال ان ویڈیوز کو ڈیلیٹ  نہ کیا جائے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ شواہد دیکھنے کے بعد کیا جائے گا۔ 

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے گواہوں کو طلب کر لیا۔ 

آئندہ پیشی پر اعتراض شدہ ویڈیوز اور تفتیشی نکات پر بحث ہو گی۔

ڈکی بھائی کے خلاف کارروائی سوشل میڈیا پر مبینہ متنازعہ مواد کی اشاعت کے تناظر میں شروع ہوئی تھی۔ 

این سی سی آئی اے نے بعض ویڈیوز کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے تھے۔ 

عدالتی کارروائی کے اختتام پر اس وقت ایک دلچسپ منظر دیکھنے میں آیا جب ڈکی بھائی کے وکلا نے احاطہ عدالت میں ہی انہیں یوٹیوب پر ایک کروڑ سبسکرائبرز مکمل ہونے پر اعزازی شیلڈ پیش کی۔ 

سائبر کرائم قوانین کے ماہر جاوید اکبر ایڈووکیٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ قانونی حدود کا احترام بھی لازم ہے۔ زیر سماعت مقدمات پر عوامی پلیٹ فارمز پر تبصرہ عدالتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ 

’ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ افراد کے مالی مفادات اور ریاستی نگرانی کے درمیان توازن ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل