ایک نارویجین صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس اس وقت معطل کر دیے گئے جب انہوں نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے ناروے کے دورے کے دوران پریس فریڈم کے حوالے سے سوال کیا، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی تنازع کی صورت اختیار کر گیا۔
اوسلو سے شائع ہونے والے اخبار کی رپورٹر ہیلے لِنگ نے بدھ کو کہا کہ وہ میٹا کے دونوں پلیٹ فارمز سے لاک آؤٹ ہو گئی ہیں اور یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ان کے سوالات کو انڈین وزیراعظم اور سینیئر سفارت کاروں کے حوالے سے کافی توجہ ملی۔
انہوں نے اس حوالے سے ایکس پر لکھا: ’اگر آپ مجھے انسٹاگرام یا فیس بک پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو میں بتانا چاہتی ہوں کہ میرے دونوں اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں۔ میں زیادہ سے زیادہ انڈینز کو جواب دینا چاہتی تھی لیکن اب میرے جوابات تاخیر کا شکار ہوں گے۔ امید ہے میرے اکاؤنٹس بحال ہو جائیں گے۔‘
اس کے ساتھ انہوں نے میٹا کو ٹیگ بھی کیا۔
If you’re trying to reach me on Instagram or Facebook, I would like to let you know I have been suspended from both accounts. I have wanted to respond to as many Indians as possible, but my responses will now be delayed. I hope I will get my accounts back. @Meta
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 19, 2026
میٹا نے تاحال اس معطلی پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ بیان کی ہے۔ اس حوالے سے دی انڈپینڈنٹ نے کمپنی سے رابطہ کیا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اوسلو میں نریندر مودی اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گہر سٹورے کی مشترکہ بیان جاری کرنے کی تقریب کے دوران دونوں رہنماؤں نے صحافیوں کے سوالات نہ لینے کا اعلان کیا۔ جیسے ہی وہ پوڈیم سے جانے لگے، ہیلے لِنگ نے سوال کیا: ’وزیرِاعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس سے سوال کیوں نہیں لیتے؟‘
یہ واضح نہیں کہ مودی نے یہ سوال سنا یا نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور ہال سے چلے گئے۔
یہ لمحہ تیزی سے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا اور انڈیا میں پریس فریڈم، سیاسی جواب دہی اور مودی کی طویل عرصے سے تنقیدی سوالات سے گریز کی پالیسی پر بحث شروع ہو گئی۔
وزیر اعظم نے مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کوئی روایتی پریس کانفرنس نہیں کی اور غیر ملکی دوروں کے دوران بھی شاذ و نادر ہی صحافیوں کے براہِ راست سوالات کے جواب دیتے ہیں۔
Primeminister of India, Narendra Modi, would not take my question, I was not expecting him to.
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026
Norway has the number one spot on the World Press Freedom Index, India is at 157th, competing with Palestine, Emirates & Cuba.
It is our job to question the powers we cooperate… pic.twitter.com/vZHYZnAvev
بعد میں ہیلے لِنگ نے بی بی سی ہندی سے گفتگو میں کہا: ’یہی جارحانہ صحافت کا طریقہ ہوتا ہے۔ آپ کو سوال روکنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے، مزید جواب لینے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ میں وہ جوابات حاصل کرنا چاہتی تھی جن کی مجھے تلاش تھی، لیکن نہیں، مجھے وہ جواب نہیں ملا۔‘
انہوں نے ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں ناروے اور انڈیا کے درمیان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں فرق کی طرف بھی اشارہ کیا۔
انہوں نے لکھا: ’انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے میرا سوال نہیں لیا؛ مجھے اس کی توقع بھی نہیں تھی۔ ناروے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ انڈیا 157ویں نمبر پر۔‘
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب اوسلو میں انڈین سفارت کاروں کی پریس بریفنگ کے دوران انہیں اپنے سوالات براہِ راست رکھنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے انڈین وزارت خارجہ سے پریس فریڈم اور انسانی حقوق کے الزامات پر سوال کیا: ’ہم آپ پر کیوں اعتماد کریں؟‘
سینیئر انڈین سفارت کار سیبی جارج نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انڈیا کے جمہوری اداروں اور آئینی تحفظات کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا: ’ہم برابری پر یقین رکھتے ہیں، ہم انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔ اور انسانی حقوق کی بہترین مثال کیا ہے؟ حکومت تبدیل کرنے کا حق، ووٹ کا حق۔‘
ایک موقعے پر انہوں نے صحافی کو ٹوکتے ہوئے کہا: ’یہ میری پریس کانفرنس ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیبی جارج نے انڈیا کے بارے میں بین الاقوامی فہم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا: ’لوگوں کو انڈیا کے حجم کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ کچھ نامعلوم، غیر متعلقہ این جی اوز کی ایک دو رپورٹس پڑھتے ہیں اور پھر سوال کرنے آ جاتے ہیں۔‘
ہیلے لِنگ نے بعد میں کہا کہ انہوں نے انسانی حقوق کے الزامات پر مزید وضاحت لینے کی بار بار کوشش کی لیکن انہیں واضح جواب نہیں ملا۔
انڈیا کے اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیرِاعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’کمپرومائزڈ وزیراعظم‘ قرار دیا۔
انہوں نے لکھا: ’جب دنیا ایک کمپرومائزڈ وزیراعظم کو گھبرا کر سوالات سے بھاگتے دیکھتی ہے تو انڈیا کی ساکھ کا کیا ہوتا ہے؟ جب چھپانے کو کچھ نہ ہو تو ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
دوسری جانب ہیلے لِنگ نے کہا کہ وہ ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بند کیے گئے۔
انہوں نے لکھا: ’کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ میرا انسٹاگرام اور فیس بک کیوں معطل ہوا؟ میں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ آیا یہ ٹو سٹیپ ویریفکیشن کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوا یا کوئی اور وجہ تھی۔‘
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر اکاؤنٹس بحال ہو جائیں تو انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
© The Independent