امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں لوگوں کی جانیں بچاتے ہوئے جان سے جانے والے سکیورٹی گارڈ، امین عبداللہ کے بیٹوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
بدھ (20 مئی) کو اپنے گھر پر انٹرویو دیتے ہوئے غمزدہ بیٹوں کا کہنا تھا کہ ان کے والد ان کے ہیرو اور ’دنیا کے بہترین باپ‘ تھے۔
امین عبداللہ کے تینوں بیٹے، 21 سالہ جبریل، 28 سالہ محمد اور 24 سالہ خالد گھر پر آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے اور تعزیت قبول کر رہے تھے۔
انہوں نے اپنے والد کو ایک ایسا انسان قرار دیا جن کی زندگی خدمت، ہمدردی اور ایمان سے عبارت تھی۔
محمد امین عبداللہ نے مقتول والد کو یاد کرتے ہوئے کہا: ’جب مجھے اس واقعے کا پتہ چلا تو مجھے یقین نہیں آیا۔ سب کچھ ایک خواب جیسا لگ رہا تھا۔
’لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ ان کے اس اقدام سے وہاں موجود تمام بچوں کی جانیں بچ گئیں، تو مجھے فخر اور دلی سکون ملا۔ میں جانتا ہوں کہ میرے والد ہمیشہ اسی طرح دنیا سے جانا چاہتے تھے لوگوں کی حفاظت کرتے ہوئے۔‘
خالد امین عبداللہ نے بتایا کہ ان کے والد نہ صرف ایک باپ تھے بلکہ ایک بہترین دوست بھی تھے، جو زندگی، ایمان اور ذمہ داریوں کے بارے میں ہمیشہ رہنمائی کرتے تھے۔
انہوں نے کہا: ’وہ ہمیشہ ہمیں نصیحت کرتے تھے، ایمان کی یاد دہانی کرواتے تھے اور ہمیں کامیاب دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ ہم سب ان کے بہت قریب تھے۔‘
خالد کا مزید کہنا تھا کہ جس بہادری سے ان کے والد کا انتقال ہوا، اس سے خاندان کو حوصلہ ملا ہے۔
انہوں نے والد کے اقدام کو بے لوث قرار دیتے ہوئے کہا: ’یہ حقیقت کہ وہ بچوں اور معصوم لوگوں کو بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑے تھے، مجھے سکون دیتی ہے۔ انہیں 'ہیرو' کہنا تو بہت چھوٹی بات ہے۔‘
تیسرے بیٹے، جبریل امین عبداللہ نے بھی انھی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد ’سب سے شفیق انسان اور ایک بہترین باپ‘ تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سوشل میڈیا اور مقامی کمیونٹی کی جانب سے یکجہتی کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ دن بھر لوگ ان کے گھر آتے رہے، پھول پیش کرتے رہے اور یکجہتی کے پیغامات دیتے رہے۔
اہلِ خانہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امین عبداللہ کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے دوسروں کی مدد کریں اور معاشرے میں ہمدردی کو فروغ دیں۔
محمد امین نے پیغام دیتے ہوئے کہا: ’اپنی زندگی دوسروں کی خدمت میں گزاریں اور ہر ایک کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ اگر لوگ اس طرح جینا شروع کر دیں تو یہ دنیا یقیناً ایک بہتر جگہ بن جائے گی۔‘
اگرچہ اس حملے نے سکولوں اور عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے، تاہم محمد امین کا کہنا تھا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں، لیکن انہوں نے مزید سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا: ’کسی بھی شخص کو عبادت گاہ جاتے ہوئے خوف یا فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کو سکول جاتے ہوئے ڈر نہیں لگنا چاہیے۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ لوگ زیادہ چوکنے رہیں، کیونکہ ایسا واقعہ دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔‘