ایران کے ساتھ مذاکرات معاہدے اور دوبارہ حملے کے درمیان ’بارڈر لائن‘ پر: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یقین کریں یہ بالکل بارڈر لائن پر ہے۔ اگر ہمیں درست جوابات نہیں ملتے تو معاملات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 15 مئی 2026 کو چین کے دورے کے بعد واشنگٹن واپسی پر وائٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی تعاون اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر بات چیت کی(تصویر: اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات معاہدے اور دوبارہ حملے کے درمیان ’بارڈر لائن‘ پر ہیں۔

ٹرمپ نے، جنہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ مذاکرات اپنے ’آخری مراحل‘ میں ہیں، بعد میں خبردار کیا کہ سفارت کاری کا موقع تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔

خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو ٹرمپ نے واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں کو بتایا کہ ’یقین کریں یہ بالکل بارڈر لائن پر ہے۔ اگر ہمیں درست جوابات نہیں ملتے تو معاملات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ ہم کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ معاہدہ ’بہت جلد‘ یا ’چند دنوں میں‘ ہو سکتا ہے، لیکن خبردار کیا کہ تہران کو ’سو فیصد درست جوابات‘ دینے ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو ’امریکی فریق کا نقطہ نظر موصول ہو گیا ہے‘ اور وہ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے ایرانی مطالبات کو دہرایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل تہران کے سربراہ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں نئے حملوں کی دھمکی دینے کے بعد واشنگٹن پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

قالیباف نے ’بھرپور جواب‘ سے خبردار کیا، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ کوئی بھی نیا تنازع مشرق وسطی سے بہت آگے تک پھیل جائے گا۔

قالیباف نے کہا: ’دشمن کی کھلی اور خفیہ دونوں طرح کی حرکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود اس نے اپنے فوجی مقاصد ترک نہیں کیے ہیں اور وہ ایک نئی جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور وہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے جب انہوں نے اسے مؤخر کر دیا۔

دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا